ایران کے مرکزی بنک کے سابق گورنرکو10 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران میں ایک عدالت نے مرکزی بنک کے ایک سابق گورنرکوغیرملکی کرنسی کی ٹریڈنگ میں قومی خزانے کو 16 کروڑ ڈالراوردوکروڑ یورو کانقصان پر 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ولی اللہ سیف 2013ءسے 2018 ءتک ایران کی مالیاتی اتھارٹی کے سربراہ رہے تھے۔ وہ ایران کے مرکزی بنک کے پہلے گورنر ہیں جن پرفردِجُرم عاید کی گئی اور سزاسنائی گئی ہے۔69سالہ سیف اس وقت اپنی سزا کے خلاف اپیل کے التوا تک آزاد ہیں۔

ایرانی عدلیہ نے اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی ہے کہ ولی اللہ سیف نے اپنے نائب احمد عراقچی کے ساتھ مل کر بار بار قانون توڑا ہے۔عراقچی کو قصور وار ثابت ہونے پر آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے ایران کے مرکزی بنک کی تیسری سینیرشخصیت رسول سجاد کوغیرملکی کرنسی کی غیرقانونی ٹریڈنگ اور رشوت لینے کےالزام میں قصوروارثابت ہونے پر13 سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں