.

ایران:17 سال کی عمرمیں گرفتار کیے گئے نوجوان کی پھانسی ایک بار پھرملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے17 سال کی عمرمیں گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کی پھانسی کوایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے۔اس شخص کی جان بچانے کی بین الاقوامی سطح پر اپیلیں کی گئی ہیں۔

ایرانی اخباراعتماد نے اپنی ویب سائٹ پر ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ’’ارمان عبدالعلی کی سزائے موت پرآج صبح عمل درآمد کیا جانا تھا اور اس کو تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا لیکن اس کو دوبارہ روک دیا گیا ہے اور اس نوجوان کو کل رات واپس جیل بھیج دیا گیا تھا۔‘‘مگراخبار نے مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران میں یہ دوسرا موقع ہے جب 25 سالہ عبدالعلی کی پھانسی ملتوی کر دی گئی ہے۔اس کو 2014ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک ایرانی عدالت نے اس کو اپنی گرل فرینڈ کے قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

ایک اور اخبار ہم شہری نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ارمان عبدالعلی کی سزائے موت ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کی گئی ہے لیکن اس نے کہا تھا کہ ’’شاید اس کو جلد ہی پھانسی دے دی جائے گی۔‘‘

لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ پیر کے روز کہا تھا کہ ارمان عبدالعلی کو بدھ کے روز پھانسی کی تیاری کے لیے تہران کے مغرب میں واقع شہرکرج کی ایک جیل میں کال کوٹھڑی میں منتقل کردیا گیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نوجوان کو اپنی گرل فرینڈ کے قتل کے الزام میں دو مرتبہ سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن بین الاقوامی شوروغوغا کے بعد دونوں مرتبہ ہی پھانسی روک دی گئی ہے۔

ایمنسٹی کی مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیانا الطحاوی نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حکام کو ارمان عبدالعلی کو پھانسی دینے کے تمام منصوبوں کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ماہر ایران سے تمام پھانسیوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔

جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون میں 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کی سزائے موت پر عمل درآمد کی واضح طور پرممانعت کی گئی ہے۔

ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نابالغوں سے سرزدہونے والے جرائم پرسزائے موت کو اس امرکی علامت کے طور پر لیا جانا چاہیے کہ ان کے جرائم بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق ایران میں گذشتہ سال 246 افراد کو تختہ دارپرلٹکایا گیا تھا۔ ایران خطے میں چین کے بعد پھانسی کی سزاؤں پرعمل درآمد کرنے والا دوسراملک ہے۔وہ دنیا بھر میں بھی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کرنے والا دوسرا ملک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں