.

برطانوی وزیراعظم کامقتول رکن پارلیمان کوخراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے چرچ کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ہفتے کے روز مقتول رکن پارلیمان ڈیوڈ ایمس کی قتل گاہ چرچ کا دورہ کیا ہے، انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور ان کی یاد میں پھول چڑھائے ہیں۔

جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ ایمس کو جمعہ کی دوپہر لندن کے مشرق میں واقع علاقے لیح آن سی میں ایک چاقوبردار حملہ آور نے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔اس وقت وہ اپنے ووٹروں سے ملاقات کررہے تھے۔پولیس نے واقعہ کو دہشت گردی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

بورس جانسن کے ساتھ وزیر داخلہ پریتی پٹیل اور حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے رہنما کیراسٹارمر بھی قتل گاہ گئے ہیں اورانھوں نے مل کر مقتول ایمس کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

جانسن اور اسٹارمرنے مقتول کے احترام میں چرچ میں ایک لمحہ کی خاموشی اختیار کی۔ جمعہ کو جانسن نے ایک بیان میں کہا تھاکہ برطانیہ نے ایک عمدہ عوامی خادم ،ایک انتہائی پسندیدہ دوست اور ساتھی کوکھو دیا ہے۔

برطانوی پولیس نے ہفتے کے روزعلی الصباح ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے اس قتل میں اسلامی انتہاپسندی سے وابستہ ممکنہ محرک کا انکشاف ہوا ہے۔پولیس نے قتل کے شُبے میں جائے وقوعہ سے ایک 25 سالہ برطانوی شخص کو گرفتار کیا تھااور کہا تھا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اکیلے ہی یہ کارروائی کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں ڈیوڈ ایمس قتل ہونے والے برطانوی دارالعوام کے دوسرے رکن ہیں۔ان سے پہلے جون 2016 ء میں پارلیمان کے رکن جو کاکس کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ان کے قتل سے چند روز پہلے ہی ایک عوامی ریفرینڈم میں برطانوی شہریوں نے ملک کےیورپی یونین سے اخراج (بریگزٹ) کی منظوری دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں