.

طالبان کا ایک بار پھر لڑکیوں کے اسکولوں کو "بہت جلد" کھول دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگست کے وسط میں افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تحریک طالبان کے سابقہ عدوں کے باوجود کہ وہ عنقریب لڑکیوں کے انٹرمیڈیٹ اسکولوں کو دوبارہ کھول دیں گے ،،، ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے جب کہ لڑکوں کی اسکولوں میں واپسی کو ایک ماہ سے زیادہ گزر چکا ہے۔

البتہ اب ایک بار پھر طالبان تحریک نے اپنا وعدہ دہرایا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایک سینئر ذمے دار اور یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ "بہت جلد" تمام افغان لڑکیوں کو ایک بار پھر سے انٹرمیڈیٹ اسکولوں میں واپسی کی اجازت دینے کا اعلان کریں گے۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر عبدی نے گذشتہ ہفتے کابل کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے آج ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان کے 34 میں سے 5 صوبے پہلے ہی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں سے وابستہ ہونے کی اجازت دے چکے ہیں۔

عبدی نے مزید بتایا کہ طالبان حکومت کے وزیر تعلیم نے انہیں بتایا ہے کہ وہ تمام لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم جاری رکھنے کی اجازت کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ایک سے دو ماہ میں اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے متنبہ کیا کہ لاکھوں لڑکیاں تقریبا 27 روز سے تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے طالبان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتظار میں گزرنے والا ہر دن اسکول نہ جانے والی بچیوں کے لیے ایک ضائع ہو جانے والا دن ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق اور آزادی کے حوالے سے مغربی دنیا کے اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بالخصوص جب کہ طالبان نے اپنے سابقہ دور حکومت (1996-2001) میں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے ، کام کرنے اور تنہا سفر کرنے سے روک دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں