.

بیروت میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہیں جائے گا: لبنانی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر دفاع مورس سیلم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دارالحکومت بیروت کے علاقے طیونہ میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت طیونہ میں سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔

وزیردفاع نے لبنانی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں اشارہ کیا کہ وزارت دفاع کو مظاہروں کے پرامن ہونے کی تصدیق پیشگی معلومات ملی تھیں لیکن یہ کہ طیونہ میں بھگدڑ اور تصادم کی وجہ سے دونوں اطراف سے فائرنگ ہوئی۔ تشدد کا سلسلہ طیونہ سے شروع ہوا اور عین الرمانہ تک پھیل گیا۔

جہاں تک بندرگاہ دھماکوں کی تفتیش کے ذمہ دار جج البیطار کے بارے میں فیصلے کا تعلق ہے اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مورس سلیم نے کہا کہ جج کو ہٹانا یا لگانا سیاست نہیں بلکہ عدلیہ کا کام ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوج اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ تحقیقات سے متعلق دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔

عناصر من حزب الله وحركة أمل في طيونة خلال اشتباكات بيروت  - 14 اكتوبر 2021 - فرانس برس
عناصر من حزب الله وحركة أمل في طيونة خلال اشتباكات بيروت - 14 اكتوبر 2021 - فرانس برس

وزیر دفاع نے کہا کہ طیونہ میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہیں جائے گا۔ وہاں کوئی متوقع پیش رفت نہیں اور سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ لبنان کے دارالحکومت میں جمعرات کو پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں ، جو خانہ جنگی کے برسوں کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ جھڑپیں بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات سے منسلک سیاسی کشیدگی کو جنم دیتی ہیں۔

بیروت نے برسوں بعد اس نوعیت کا تصادم اور تشدد دیکھا گیا۔ یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جس کے باعث ملک کو ایک نئے بحران میں ڈوب سکتا ہے۔ یہ کشیدگی لبنان میں حکومت کے قیام کے صرف ایک ماہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ موجودہ حکومت اس وقت ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کررہی ہے جب کہ حالیہ ایام میں ملک میں امن وامان کی صورت حال بھی خراب ہوئی۔

ایران نواز حزب اللہ اور امل تحریک کے مشترکہ احتجاج کے دوران کم سے کم سات افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے تھے۔

دارالحکومت میں جسٹس پیلس قریب الطیونہ اسکوائر جہاں بندرگاہ دھماکے کی تحقیقات کے انچارج عدالتی تفتیش کار طارق بطار کا دفتر ہے میدان جنگ میں بدل گیا تھا۔ احتجاج کے دوران شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔