.

جوبائیڈن کا ایران مخالف سخت مؤقف سعودی عرب،اسرائیل تعلقات معمول پرلاسکتا ہے:پومپیو

ایک دن سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدۂ ابراہیم میں شامل ہو جائے گا:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ صدرجو بائیڈن کو ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانا ہوگا تاکہ سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے پرقائل کیا جاسکے۔

پومپیو نے ٹیلی گراف کوانٹرویو میں کہا ہے :’’مجھے یقین ہے کہ ابراہیم معاہدوں میں مزید بہت سے ممالک شامل ہوں گے اورایک دن سعودی عرب بھی ان میں شامل ہوجائے گا۔‘‘

مائیک پومپیونے امریکا کے وزیرخارجہ کی حیثیت میں ابراہیم معاہدے طے کرانے میں اہم کردارادا کیا تھا۔ان کے تحت گذشتہ ایک سال کے دوران میں چارعرب ممالک، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کیے ہیں۔

2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ آیاسعودی عرب بھی اس پر اسرائیل کے ساتھ ایسے کسی معاہدے میں شامل ہوجائے گا یا نہیں۔

تب سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ مملکت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلیوں اورفلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی شرط پورا پونے کی صورت میں صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کوتیار ہوگی۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سفارت کار مائیک پومپیو کا خیال ہے کہ صدرجوبائیڈن کی انتظامیہ سعودی عرب کو اس ضمن میں قائل کرسکتی ہے اوراگروہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں تو سعودی عرب بھی ابراہیم معاہدے پردست خط کو آمادہ ہوسکتا ہے۔

پومپیو نے کہا کہ اس معمےکے دوایک حصے اوربھی ہیں جوانھیں دیکھنے کی ضرورت ہے-وہ مضبوط امریکی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ ایک ایسا امریکا دیکھنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ وہ ان کی حمایت کرے گا، خاص طور پروہ ایران سے درپیش چیلنج کے مقابلے میں ان کا ساتھ دے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ہی ایران کو مشرق اوسط میں امن کے لیے سب سے بڑاخطرہ سمجھتے ہیں۔پومپیو چاہتے ہیں کہ امریکا ایران اوراس کی آلہ کار تنظیموں کے نیٹ ورک یعنی خطے میں اس کی پروردہ ملیشیاؤں مثلاً غزہ کی پٹی میں حماس، یمن میں حوثیوں، لبنان میں حزب اللہ اورعراق میں کتائب حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔

انھوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے چند ہفتے کے اندرہی غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب ایرانی ساختہ راکٹ داغے جانے لگےتھے اورآج یقینی طورپراسی ہفتے آپ کے پاس یمن سے سعودی عرب کی سمت داغے جانے والے ایرانی میزائل موجود ہیں۔پومپیو کا کہنا تھا کہ یہ شرائط ایسی نہیں ہیں جن کی بنا پرقوموں کے لیے معاہدۂ ابراہیم ایسے معاہدوں میں شامل ہونے کا تاریخی فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔