.

حوثی ملیشیا نے37 ہزار یمنیوں کو نسل کشی کے خطرے سے دوچار کردیا :امریکی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے مآرب ، شبوہ اور البیضا کی گورنریوں میں حوثیوں کے حالیہ حملوں اور ان میں ہونے والے اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ العبدیہ ڈاریکٹوریٹ میں حوثیوں کے محاصرے کے نتیجے میں 37 ہزار افراد کو نسل کشی کے خطرے کا سامنا ہے۔

امریکی ایلچی نے ہفتے کے روزمآرب کے گورنر سلطان العرادہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور گورنری میں حوثیوں کے بڑھتے حملوں، ملیشیا کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں اور انسانیت سوز جرائم پر تفصیلی بات چیت کی۔

لینڈرکنگ نے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ مآرب گورنری اور العبدیہ ڈاریکٹوریٹ پر فوجی حملہ بند کرے ، شہریوں کوادویات اور طبی عملے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محفوظ راہداریوں کو جلد کھولے۔

انہوں نے مآرب گورنری میں شہریوں ، سویلین محلوں اور بے گھر افراد کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے جان بوجھ کر اور بار بار نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے مجرموں کو انصاف کے حصول کے لیے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقعے پر مآرب کے گورنر نے حوثی ملیشیا کی جانب سے 2015 کے بعد سے گورنر کے خلاف جاری حملے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کی لا پرواہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گذشتہ دو سال سے حوثی ملیشیا نے مآرب کے لوگوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی دباؤ نہ ہونے کی وجہ حوثی ملیشیا کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔