.

عراقی انتخابی کمیشن کے فیصلے اور انتخابی نتائج قبول کرتے ہیں: مقتدی الصدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے انتخابی کمیشن کے فیصلے اور پارلیمانی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آج اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں الصدر نے واضح کیا کہ انتخابی نتائج کو اختلافات اور تنازعات بھڑکانے والا نہیں ہونا چاہیے۔

الصدر نے باور کرایا کہ اصلاح کے مقصد سے قومی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ،،، یہ اتحاد فرقہ ورانہ اور نسلی بنیاد پر نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری حکومت شفاف اور خدمت کرنے والی ہو گی جس میں ذاتی مفادات کو مفادات عامہ پر ترجیح نہیں دی جائے گی"۔

دوسری جانب عراق میں شیعہ سیاسی جماعتوں کے الائنس "کوآرڈینیشن فریم ورک" نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ "ہم یہ امید کر رہے تھے کہ عراقی انتخابی کمیشن بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی درستی کر دے گا"۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ "کوآرڈی نیشن فریم ورک" نے احتجاج روکنے کے مقابل شرط رکھی ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی گنتی مکمل طور پر ہاتھوں سے کی جائے۔

خصوصی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیعہ کوآرڈی نیشن فریم ورک کی جانب سے انتخابی نتائج مسترد کر دیے جانے کے سبب آنے والے دنوں میں عراق میں دھرنے اور مظاہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔

عراقی انتخابی کمیشن نے ہفتے کی شام منعقد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حالیہ نتائج ابتدائی ہیں اور ان کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

کمیشن کے مطابق انتخابات کے مکمل نتائج سرکاری ویب سائٹ پر پیش کر دیے گئے ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق شیعہ مذہبی رہ نما مقتدی الصدر کے الصدری گروپ نے انتخابات میں 70 سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب الفتح اتحاد کو درد ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس اتحاد میں ایران کی ہمنوا ملیشیا الحشد الشعبی کے گروپ شامل ہیں۔

البتہ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقتدی الصدر تنہا حکومت تشکیل نہیں دے سکیں گے اور انہیں دوسروں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔