.

کولمبیا کےتاجرایلکس صاب وینزویلا کے لیے منی لانڈرنگ کے الزام میں امریکا کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ انصاف نے اطلاع دی ہے کہ وینزویلا کے صدرنکولس مادورو کی حکومت کے لیے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتارکولمبیا کے مفرورتاجرایلکس صاب کو کیپ وردی سے امریکا کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ایلکس صاب کو پیر18 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا کی ایک عدالت میں پہلی مرتبہ پیش کیا جارہا ہے۔محکمہ انصاف نے اس پیچیدہ معاملے میں کیپ وردی کی حکومت کی مدد او استقامت پر شکریہ ادا کیا ہے اورکابووردی کے عدالتی نظام کی پیشہ ورانہ مہارت کی ستائش کی ہے۔

صاب اور ان کے کاروباری شراکت دارالوارو پلیڈو پر امریکامیں ایک ایسا نیٹ ورک چلانے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس نے امدادی خوراک کے پروگرام سے مالی فائدہ اٹھایا تھا۔ یہ پروگرام شدید معاشی بحران سے دوچار مگرتیل کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا کے لیے تھا۔

ان دونوں کو وینزویلا کی حکومت کے لیے منی لانڈرنگ کے الزام میں 20،20 سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔انھوں نے مبیّنہ طورپروینزویلا سے قریباً 35 کروڑ ڈالران اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے جن پران کا امریکا اور دیگر ممالک میں کنٹرول تھا۔

ایلکس صاب وینزویلا کے شہری ہیں اور ان کے پاس وینزویلا کا سفارتی پاسپورٹ بھی ہے۔ان پر جولائی 2019 میں میامی میں منی لانڈرنگ کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور جون 2020 میں مغربی افریقا کے ساحل پر کیپ وردی میں ایک طیارے کے راہداری قیام (اسٹاپ اوور) کے دوران میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

وینزویلا نے ہفتے کے روزان کی امریکا حوالگی پرشدید ردعمل کا اظہارکیا ہے اورملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران کے خاتمے کے لیے امریکا کی حمایت یافتہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات معطل کردیے ہیں۔

وینزویلا کی حکومت کے وفد کی سربراہی کرنے والے جارج روڈریگوزنے کہا کہ ان کی ٹیم مذاکرات کے اگلے دورکے لیے میکسیکوشہرنہیں جائے گی۔

صاب کی امریکا حوالگی کی خبروں نے وینزویلا میں سوشل میڈیا پرایک ہیجان برپا کردیا ہے اور اس اطلاع کے چند گھنٹے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گھروں میں نظربند امریکا کے چھے تیل ایگزیکٹوزکو واپس جیل منتقل کردیا ہے-

یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں براجمان ہونے کے بعد گذشتہ کئی ماہ سے جاری خاموش سفارت کاری کے خاتمے کا امکان پیدا ہوگیا ہے اور واشنگٹن اور کیراکس کے درمیان خفیہ روابط ختم ہوسکتے ہیں۔ وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی کے ہیوسٹن میں واقع ذیلی ادارے سیٹگو 6 کے نام سے جانے والے ان افراد کے اہل خانہ نے دونوں حکومتوں پرمایوسی کا اظہارکیا ہے۔

کرسٹینا واڈیل نے کہا کہ’’یہ حقیقت کہ میرے والد مسٹر صاب سے پہلے امریکا میں ہیں اور یہ ایک ذلت کا مقام ہے۔‘‘ان کے والد ٹومیو واڈیل ان امریکیوں میں شامل ہیں جو امریکی حکومت کے خلاف امریکاکے الزامات پر طویل سزائیں کاٹ رہے ہیں۔یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ ان امریکیوں کووینزویلا میں یرغمال بنایا گیا ہے اور صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو ان کی فوری رہائی کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔‘‘