.

عراق: ایران نواز جماعتوں کے انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں گذشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری ہونے کے بعد ایران کی حمایت یافتہ قوتوں کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کی ایران نواز جماعتوں نے انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے شروع کردیے ہیں۔

کل اتوار کے روزعراق کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نواز جماعتیں آج دوبارہ مظاہرے کرنے اور ریلیاں نکالنے کی تیاری کررہی ہیں۔ گذشتہ روز مظاہرین نے ایک جلوس کے دوران شمال مشرقی بغداد کی ایک اہم شاہراہ کو کئی گھنٹے بند رکھا تھا۔

ایران نواز جماعتوں کی طرف سے احتجاج میں شدت کےساتھ ساتھ ملک مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھنے کا بھی خطرہ ظاہرکیا جا رہا ہے۔

عراق کے العہد ٹی وی چینل نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی مقامات پرسڑکیں بلاک کردیں۔

ایک مقامی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے کے دوران مظاہرین نے الحسینہ شاہراہ کو بلاک کردیا۔

عراق کے بصرہ شہر میں بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے احتجاج کرنے والی قوتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ بلیک میلنگ، جھوٹ، محاذ آرائی اور عوام کو دھوکہ دینے کی پالیسی پرچل رہے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد میلاد النبیﷺ کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم المالکی نے کہا کہ آج ہم نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے شفاف انعقاد کا وعدہ پورا کردیا ہے۔ عوام نے اپنی منشا اور آزادی کے مطابق اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا ہے۔ اب جلد ہی نئی پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں ادا کرےگی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مذہبی شعیہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی جماعت نے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ مقتدیٰ الصدر کو ایک اعتدال پسند شیعہ لیڈر کےطور پر جانا جاتا ہے۔ وہ عراق کی عرب شناخت کو برقرار رکھنے کے حامی اور عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھنے کے خواہاں ہیں۔