.

کویت :رکن پارلیمان نےتارکینِ وطن کی ترسیلاتِ زرپر ٹیکس کے نفاذکا بل پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں پارلیمان کے ایک رکن نے تارکینِ وطن کی ترسیلاتِ زر پر ٹیکس عاید کرنے کا بل پیش کردیا ہے۔

کویتی اخبارعرب ٹائمز نے رواں ہفتے یہ خبر دی تھی کہ رکن پارلیمنٹ اسامہ المنور نے یہ بل پیش کیا ہے۔اس کی منظوری کی صورت میں بنک اور مالیاتی ادارے ملک سے باہرمنتقل کی جانے والی رقوم پر ٹیکس وصول کرنے کے مجاز ہوں گے اور وہ غیرملکیوں کی ترسیلاتِ زرپر ایک مخصوص شرح سے ازخودٹیکس کی رقم منہا کرسکیں گے۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق اگرمنتقل کی گئی رقم تارکِ وطن مزدور کی سالانہ آمدن کے 50 فی صد سے تجاوز کر جاتی ہے تو پھر ٹیکس کی رقم ’’پانچ فی صد‘‘سے کم نہیں ہوگی۔ اس ضمن میں کویت کی وزارتِ خزانہ ٹیکس کی صحیح رقم کا تعیّن کرے گی۔

عرب ٹائمزکے مطابق رکن پارلیمان نے مبیّنہ طورپر حکومت کے ایک سابقہ فیصلے پربھی عمل درآمد پر زوردیا ہے۔اس میں 60 سال سے زیادہ عمر کے غیر ملکیوں کے ملازمتی معاہدوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اگست میں کویت کی وزارتِ داخلہ نے غیرملکیوں کے نام رجسٹر کرائی جانے والی گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے کا بھی اعلان کیا تھاکیونکہ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن لاتعداد کاروں کے مالک ہوتے ہیں مگر وہ بغیر لائسنس کے گاڑیوں کی خرید وفروخت کا دھندا کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق کویت میں سیکڑوں غیرملکیوں کے پاس پچاس ،پچاس یا اس سے زیادہ کاریں ہیں۔ وہ ان کاروں کی خریدوفروخت اورلیزپردینے کی تجارت کرتے ہیں مگران کے پاس ایسا کرنے کا لائسنس نہیں ہوتا جس کی وجہ سے جنرل ٹریفک ڈیپارٹمنٹ نےغیرملکیوں کی ملکیت میں کاروں کی تعداد کو قانونی طور پرمحدود کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مارچ میں یہ اطلاع بھی منظرعام پرآئی تھی کہ کویت میں مقیم دولاکھ سے زیادہ تارکینِ وطن کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بیرون ملک پھنس کر رہ گئے ہیں۔ وہ کرونا کی پابندیوں کے سبب اپنے آبائی یا دوسرے ممالک سے کویت نہیں لوٹ سکے ہیں اوروہ بیرون ملک ایک سال سے زیادہ مدت قیام کرنے کی وجہ سے کویت میں اپنی رہائش گاہیں کھو بیٹھے ہیں۔