.

امریکا:داعش کی مدد کے لیے کمپیوٹرکوڈ بنانے والا نوجوان قصور وار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک وفاقی جیوری نے ریاست ایلی نوائے کے ایک شخص کوداعش کے پروپیگنڈا کے لیے ایک کمپیوٹراسکرپٹ بنانے کے الزام میں قصور وار قرار دے دیا ہے۔اس کوڈ کا مقصد سخت گیر جنگجو گروپ کے آن لائن پروپیگنڈا کی تشہیر میں مدد دینا تھا۔

شکاگو سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ تھامس اوسادزنسکی نے ایک کمپیوٹراسکرپٹ ڈیزائن کیا تھا۔اس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس سے داعش کے لیے آن لائن پوسٹ کیے گئے اپنے مواد کو دوبارہ پیش کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس نوجوان نے 2019ء میں اپنا اسکرپٹ اور ہدایات شیئر کی تھیں کہ اسے وہ افراد کیسے استعمال کرسکتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ داعش کے حامی اور اس کے معاون میڈیا گروپوں کے ارکان ہیں مگر یہ تمام افراد امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے خفیہ ایجنٹ نکلے تھے۔

اوسادزنسکی کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کو مادی معاونت اور وسائل فراہم کرنے کی کوشش کا الزام ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 20 سال تک قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دی شکاگو سن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے اسسٹنٹ اٹارنی میلوڈی ویلز نے گذشتہ ہفتے جیوری کو بتایا تھا کہ داعش اپنے آن لائن پیغام رساں ارکان کو میدانِ جنگ کے جنگجوؤں کے ہم پلہ سمجھتی ہے۔

ویلز نے کہا کہ ’’اوسادزنسکی ڈیجیٹل محاذ پر داعش کی حمایت کے لیے میڈیا جہاد میں ملوث تھے اور وہ تنظیم کی ہدایات پر عمل پیرا تھے۔اس بارے میں کوئی دورائے نہیں ہیں۔‘‘
وکیل صفائی جوشوا ہرمن نے جیوری کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے اقدامات آزادیِ اظہارکے قوانین کے ذریعے محفوظ ہیں۔انھوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ’’پہلی ترمیم میں ایسی باتیں کہنے کا حق شامل ہے جو ناپسندیدہ ہیں، جو قابل مذمت ہیں اورجو ناپاک سمجھی جاتی ہیں۔‘‘

تاہم اٹارنی ویلز نے بتایا تھا کہ اوسادزنسکی نے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی تھی اور پکڑے جانے سے پہلے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسروں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کیا تھا۔