.

حسن نصر اللہ کی جانب سے 'لبنانی فورسز پارٹی' کو انتباہ اور فوج پر الزام تراشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ حسن نصر الله کا کہنا ہے کہ بیروت میں پیش آنے والے حالیہ واقعات "اہم اور خطر ناک" ہیں اور یہ اندرونی سیاست کے ساتھ نمٹنے کا ایک نیا مرحلہ ہے۔

نصر اللہ نے پیر کے روز اپنے ٹی وی خطاب میں عوام کو "لبنانی فورسز پارٹی" کے خلاف مشتعل کیا۔ نصر اللہ نے کہا کہ یہ پارٹی اور اس کا سربراہ لبنان میں مسیحیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مزید یہ کہ لبنانی فورسزپارٹی شام میں داعش اور النصرہ فرنٹ کے ساتھ متحد ہو کر دہشت گردی کو سپورٹ کر رہی ہے۔

نصر اللہ کے مطابق لبنانی فورسز پارٹی اور اس کے سربراہ (سمیر جعجع) کا اصل پروگرام خانہ جنگی ہے۔

یاد رہے کہ لبنانی فورسز پارٹی جمعرات کے روز بیروت کے علاقے الطیونہ میں رونما ہونے والی پر تشدد کارروائیوں سے اپنے کسی بھی تعلق کی تردید کر چکی ہے۔ ان واقعات میں حزب اللہ اور امل موومنٹ کے 7 حامی ہلاک ہو گئے تھے۔

حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں دھمکی دی کہ لبنان میں حزب اللہ کے پاس ایک لاکھ تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔ حزب کے سربراہ نے لبنانی فورسز پارٹی اور اس کے سربراہ کو خبردار کیا کہ " آپ لوگ حساب کتاب میں غلطی نہ کریں"۔

نصر اللہ نے لبنانی فوج پر بھی الزام لگایا کہ اس نے حزب کے عناصر پر ایک سے زیادہ مرتبہ فائرنگ کی۔

نصر اللہ نے دھمکی دی کہ اگر لبنانی عدلیہ جمعرات کے روز پیش آنے والے واقعات کے ذمے داران کے محاسبے سے پیچھے ہٹی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

جمعرات کے روز بیروت میں رونما ہونے والے پر تشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب مرکزی تحقیق کار جسٹس طارق البیطار کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں دھرنا دینے والے اکٹھا ہوئے۔ اس روز کے واقعات دس برس کے دوران میں بدترین تھے۔ انہیں دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں 1975ء سے 1990ء تک ہونے والی فرقہ ورانہ خانہ جنگی کی یاد تازہ ہو گئی۔

لبنانی فورسز پارٹی نے جمعرات کے روز پیش آنے والے پر تشدد واقعات کا ذمے دار حزب اللہ کی جانب سے جسٹس طارق البیطار کے خلاف اشتعال انگیزی کو ٹھہرایا۔ البیطار گذشتہ برس بیروت بندرگاہ پر ہونے والے زور دار دھماکے کے مرکزی تحقیق کار ہیں۔