.

لندن میں "فلسطینی ثقافتی میلے" میں ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 16 اکتوبر کو’فلسطینی ثقافتی میلے‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں فلسطینیوں اور عربوں نے ان کے ساتھ برطانوی یکجہتی کے لیے فلسطینی ثقافتی میلے میں شرکت کی۔

لندن میں فلسطینی سفیر ڈاکٹر حسام زملط ، اور برطانیہ میں "فلسطین یکجہتی تحریک" کے نمائندوں، دیگر سرگرم کارکنوں اور اداروں کے ذمہ داران نے لندن میں "عرب تھنکنگ فورم" کے زیر اہتمام میلے کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

اس موقعے پر "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی ٹیم بھی شریک ہوئی۔ میلے میں 1948 میں اسرائیل کے قیام سے قبل کے عرصے کے دوران فلسطین کے سکوں اور ڈاک ٹکٹوں کی ایک نمائش بھی کی گئی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اس قسم کا پہلا ایونٹ ہے جس میں فلسطین کے پرانے دور کے نایاب سکے اور ڈاک ٹکٹ آویزاں کیے گئے تھے۔ خاص طورپر1917ء سے 1948ء تک فلسطین میں برطانوی استبداد کے دوران کے سکے پیش کئے گئے۔

فیسٹیول میں متعدد فلموں کی اسکریننگ بھی شامل تھی۔ ان میں القدس کے علاقے الشیخ جراح کے حوالےسے تیار کی گئی ایک ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی۔ اس کے بعد الشیخ جراح کے ایک مشہور کرد خاندان کے ساتھ براہ راست ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کرایا گیا۔

فلسطینی مصور سعید سلباق نے ایک کنسرٹ میں شرکت کی جس میں انہوں نے بہت سے فلسطینی لوک گیت پیش کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں فلسطینی سفیر حسام زملط نے کہا کہ یہ تہوار فلسطینیوں کو غیر ملکیوں سے متعارف کروانے اور ہمارے بچوں کے لیے فلسطینی شناخت قائم کرنے کے لیے ایک اہم پروگرام ثابت ہوگا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ثقافت اور کلچر کو اپنی اولاد تک منتقل کریں اور نئی نسل کو فلسطینی ثقافت سے روشناس کریں۔

زملط نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا پیغام ہر اس چیز کے لیے اینٹی بائیوٹک ہےجس کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ اصل جنگ بنیادی طور پر شناخت ، تہذیب اور تاریخ کی بقا کی جنگ ہے۔ پوری اسرائیلی فوج فلسطینی لباس کو کڑھائی نہیں کر سکتی لیکن اے فلسطینی ماں آپ یہ کر سکتی ہیں۔

عرب تھنکنگ فورم کے سربراہ محمد امین نے کہا کہ فلسطینی ورثہ فلسطینیوں کو سیاست تعلق سے ماورا ہو کر متحد کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ سے کہا کہ یہ تہوار فلسطینی کمیونٹی سے ملنے اور ان کے درمیان تعارف کے ساتھ غیر عربوں کو فلسطینی تاریخ اور فلسطینی شناخت سے متعارف کرانے کا سالانہ موقع ہوگا۔