.
افغانستان وطالبان

طالبان کا’بہادر‘خودکش بمباروں کے اہل خانہ کونقد انعامات اورزمینی پلاٹ دینے کاوعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان نے امریکی اورکالعدم سابق سرکاری فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے کام آنے والے’’بہادر‘‘ خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو ایک پلاٹ اور نقد انعامات تحفے کے طورپردینے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کے تحت افغان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے ٹویٹر پرخودکش بمباروں کے خاندانوں کو یہ انعامات دینے کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے قائم مقام وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کے ایک اعلان کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے’’جہاد کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے ’’شہید‘‘بمباروں کو ’’اسلام اور ملک کا ہیرو‘‘قراردیا تھا۔

سراج الدین حقانی خود امریکا کو مطلوب ہیں۔امریکا نے انھیں ’’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘‘قرار دے رکھا ہے اوران کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کررکھی ہے۔انھوں نے منگل کے روزکابل کے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں ایک تقریب میں خودکش بمباروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔ یادرہے کہ اس ہوٹل کو بھی خودکش بمباروں نے 2018 میں اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

خوستی کی اطلاع کے مطابق وزیرداخلہ نے اپنی تقریر میں جہاد،شہیدوں اور مجاہدین کی قربانیوں کی تعریف کی اور انھیں اسلام، ملک اور ایک مومن قوم کا ہیروقراردیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اسلامی نظام کی آمد ہمارے شہیدوں کے خون کا نتیجہ ہے۔اب آپ کواورمجھے اپنے شہیدوں کی خواہش سے غداری کرنے سے گریزکرنا چاہیے۔‘‘

ترجمان خوستی نے بتایا کہ خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو ملبوسات، نقد 10 ہزارافغانی (111 ڈالر) دیے گئے ہیں اورانھیں زمینی پلاٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سراج الدین حقانی اپنے والد جلال الدین حقانی کی وفات کے بعد طالبان سے وابستہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ بنے تھے۔مغرب کی انٹیلی جنس سروسز نے اس سخت گیر نیٹ ورک کو جنگ کے دوران میں بعض خونیں خودکش حملوں کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

حقانی ایف بی آئی کو 2008 میں کابل میں ایک اور ہوٹل پر حملے کے سلسلے میں مطلوب ہیں۔اس میں ایک امریکی شہری سمیت چھے افراد ہلاک ہوئے تھے۔طالبان نے اگست میں ملک کا نظم ونسق سنبھال لیا تھا اور مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کو چلتا کیا تھا لیکن اس کے بعد اب انھیں داعش کے جنگجوؤں کے خودکش حملوں کا سامنا ہے۔اس سخت گی جنگجو گروپ نے افغانستان میں مساجد اور دیگر اہداف کو اپنے خودکش بم دھماکوں میں نشانہ بنایا ہے۔ان میں سیکڑوں افغان شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔