.

لبنانیوں کو دھمکانے والی حزب اللہ القدس کو کیوں آزاد نہیں کرالیتی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک لاکھ جنگجو رکھنے والی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے لبنان کی ایک اہم جماعت کو ’لبنانی فورسز‘ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے لبنانی فورسز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ لبنانی دارالحکومت بیروت میں گذشتہ جمعرات کو ہونے والے خونی واقعات کی ذمہ دار ہے۔ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر حزب اللہ کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا۔

حزب اللہ اور لبنانی فورسز پارٹی کے حامیوں نے ٹویٹر پرایک دوسرے پرخوب غصہ نکالا۔ لبنانی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا کہ " اس طرح کے بیانات کے بعد وزیر دفاع اور حکومت کہاں ہے؟" یہ ایک ایرانی حمایت یافتہ جماعت جس کے پاس ایک لاکھ جنگجو ہیں۔ یہ کیسے بھاری ہتھیاروں کو بیرون ملک سے اندرون ملک لے کرآتی ہے؟۔

یروشلم کو آزاد کیوں نہیں کیا گیا؟

کچھ صارفین نےاستفسار کیا کہ حزب اللہ کیوں یروشلم میں داخل نہیں ہوتی اور اسے آزاد نہیں کرتی جب اس کے پاس اتنے جنگجو موجود ہیں؟!

کچھ نے حزب اللہ کی طرف سے دی گئی دھمکی پر کہا کہ جب حزب اللہ سیاسی طورپر مشکل میں ہوتی ہے، اس طرح کے بیانات جاری کرتی ہے۔

بعض نے اس بات پر زور دیا کہ لبنانی ان دھمکیوں سے نہیں جھکیں گے۔

لبنانی اپوزیشن فرنٹ کے سیکرٹری جنرل زیاد عبدالصمد نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ "ریاست کے اندر ریاست" ہےجو اپنا غیرقانونی اسلحہ محفوظ کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ماضی کے واقعات کی طرف لے جانے، احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں پر جلوسوں کے ناپسندیدہ عمل کی طرف لے جا رہی ہے۔

مسلح افواج سے زیادہ طاقت

اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی تعداد جو کہ تہران کی مالی اور عسکری حمایت پر کام کرتی ہے۔ لبنانی مسلح افواج کی تعداد سے زیادہ ہے جس کی تعداد 85،000 ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حسن نصراللہ کی تقریر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے پس منظر میں ملک میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ان جھڑپوں میں 7 افراد کی جانیں گئیں۔

حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے بیروت بندرگاہ دھماکے کی تحقیقات کی قیادت کرنے والے جج کے خلاف ایک مہم شروع کرنے کے بعد یہ واقعات سامنے آئے۔ حزب اللہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جج طارق بیطار کو کیس سے ہٹایا جائے۔