.
یمن اور حوثی

مآرب میں عرب اتحاد کی حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی بمباری کادوسراہفتہ،مزید 80 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے یمن کے تزویراتی اہمیت کے حامل شہر مآرب اور اس کے نواحی علاقوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے خلاف مسلسل دوسرے ہفتے میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے تازہ فضائی حملوں میں 82 حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

عرب اتحاد گذشتہ دس روز سے مآرب اور اس کے نواحی حملوں میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کررہا ہے اوراس نے ان میں اب تک مجموعی طورپر 1300 کے قریب حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

اس سے قبل عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے مآرب شہر سے قریباً 100 کلومیٹر(60 میل) کے فاصلے پرواقع ضلع العبدیہ میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف زیادہ تر فضائی بمباری کی ہے۔مآرب تیل کی دولت سے مالامال شمالی یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی عمل داری میں واحد صوبہ ہے۔

یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف لڑنے والے اتحاد نے سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں صوبہ مآرب میں واقع علاقوں الجوبہ اور القصرا میں کارروائیوں میں حوثیوں کی 11 فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اوران حملوں 82 دہشت گرد عناصر ہلاک ہوگئے ہیں۔

الجوبہ کا قصبہ مآرب شہر سے قریباً 50 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور القصرا شہر سے شمال مغرب میں قریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔دریں اثناء یمن کے ایک سرکاری فوجی عہدہ دارنے بتایا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے یمنی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران میں الجوبہ میں معمولی پیش رفت کی ہے۔

حوثیوں نے فروری میں مآرب پر قبضے کے لیے ایک بڑا دھاوا بولا تھا اور پھر کچھ عرصہ خاموشی اختیار کرنے کے بعدستمبر میں یمن کی سرکاری فوج کے خلاف دوبارہ جارحیت شروع کی تھی۔

واضح رہے کہ مآرب میں اس لڑائی کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔یمن میں جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے اس لڑائی کو دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شاخسانہ قراردیا ہے۔اقوام متحدہ کے بچّوں کے فنڈ یونیسیف نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں گذشتہ سات سال سے جاری تنازع میں کم سے کم دس ہزار بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔