وعدوں پر عمل درآمد تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے:لاوروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان امور پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کے باوجود روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ماسکو افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک کہ طالبان اقتدار تک پہنچنے سے پہلے کیے گئے وعدے پورے نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو میں مذاکرات کے موقع پرکہ تحریک طالبان کا وفد شرکت کرے گا۔ ہمیں طالبان کی طرف سے حکومت سازی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا انتظار ہے۔ روس طالبان سے کہہ چکا ہے کہ ماسکو افغانستان میں نمائندہ حکومت کی تشکیل چاہتا ہے۔

آج روسی دارالحکومت ماسکو میں طالبان کے ساتھ 10 ممالک کے وفود ملاقات کریں گے۔ اسے "ماسکو فارمولا" میٹنگز کا نام دیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملک کی صورتحال اور انسانی بحران کے ساتھ ساتھ کابل میں تمام طبقات کی نمائندہ حکومت کی تشکیل پر بات چیت شامل ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق شرکاء ملک کی عسکری وسیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

طالبان حکومت میں افغان وزارت خارجہ نے گذشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ تحریک کا ایک وفد اس اجلاس میں شرکت کرے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں وضاحت کی کہ عبوری حکومت کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی وفد کی سربراہی کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ طالبان کی عبوری حکومت جامع نہیں ہے اور وہ تمام فریقوں اور ملک کی نمائندگی نہیں کرتی لیکن اس کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں