.

امریکا نے حزب اللہ کے اشتہاری کمانڈر کے سر کی قیمت 5 ملین ڈالر مقرر کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کے روز امریکا نے حزب اللہ ملیشیا کے ایک اور کمانڈر کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 5 ملین ڈالر کے مالی انعام کی پیشکش کی ہے۔ یہ کمانڈر یمن ، شام اور عراق میں عسکری کارروائیوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

ٹویٹر پرامریکی محکمہ خارجہ کے "انصاف کے لیے انعامات" پروگرام کے اکاؤنٹ پر پوسٹ ایک بیان میں حزب اللہ کے دہشت گرد رہ نما ہیثم علی طبطبائی کی تصویر شائع کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طبطبائی حزب اللہ کا کمانڈر ہے جس نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کئی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے طباطبائی یمن اور شام میں اسپیشل فورسز کے کمانڈر کے طور پر کام کرتا ہے جس نے ملیشیا کے منصوبوں اور ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے 2016 میں مذکورہ بالا کمانڈر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

پروگرام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس مذکورہ دہشت گرد کے بارے میں معلومات ہیں تو وہ اس کے پتے اور تصویر کے ساتھ تفصیلات فراہم کرے اسے پچاس لاکھ ڈالر کے برابر رقم انعام دی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کچھ عرصہ قبل خلیل یوسف حرب نامی لبنانی شخص کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بھی انعام کا اعلان کیا تھا۔ یوسف حرب پربڑی مقدار میں رقوم کی اسمگلنگ کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ مطلوب شخص حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کا کا قریبی مشیر ہے اور اس نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں تنظیم کے فوجی آپریشن کی نگرانی کی تھی۔

اس کے دوسرے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کو بڑی رقم منتقل کی تھی۔