.
ایرانی ملیشیا

امریکی سینیٹر کا شام میں امریکی فوج پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی سینیٹر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ شام میں امریکی افواج پر براہ راست حملے کا ذمے دار ہے۔

کانگریس میں امریکی انٹیلی جنس کمیٹی کے وائس چیئرمین ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے ایرانی حکومت پر شام میں امریکی فوج پر براہ راست حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سینیٹر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ "چند گھنٹے پہلے شام میں امریکی افواج پر یہ حملہ اشارہ دے رہا ہے کہ یہ براہ راست ایرانی حملہ ہے۔"

خیال رہے کہ بدھ کو شام میں التنف بین الاقوامی فوجی اڈے پر ڈرون طیاروں کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا۔ شام میں امریکی اور اتحادی فوج پر ہونے والا یہ حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ڈرون حملے کی اطلاعات کے بعد امریکی فوج کی بھاری نفری کو آس پاس تعینات کیا گیا۔ فوجی اڈے میں موجود آمرد وہیکلز کو خالی کرکے انہیں موبائل میڈیکل سہولیات سے آراستہ پوائنٹس پر منتقل کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اتحادی فوج کے اس 55 کلو میٹر کے علاقے پر موجود اڈے پر ڈرون سے ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے۔ اس اڈے پر امریکا اور برطانیہ کی فوج تعینات ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’سیرن آبرز ویٹری‘ کے مطابق یہ فوجی اڈہ ایک طرف اردن اور دوسری طرف عراق کی سرحد پر ہے۔

معلومات میں تصدیق کی گئی ہے کہ اڈے کے آس پاس میں تعینات اتحادی افواج نے ڈرون کے ذریعے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات فوجی اڈے کے اس حصے پر موجود فوج کو وہاں سے گاڑیوں کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔

دریں اثنا ، بین الاقوامی اتحاد سے منسلک ایک عراقی سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ 5 ڈرونز نے شام میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ حملہ شام کے اندر سے کیا گیا۔

حملے کے چند گھنٹے بعد امریکی حکام نے اطلاع دی کہ بدھ کے روز جنوبی شام میں ایک امریکی سائٹ پر دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں امریکی فوج کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ "سینٹ کام" نےایک بیان میں کہا کہ بیس کو مربوط کوشش کے تحت ڈرون طیارون کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔