جوہری ایران

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے اسرائیلی فضائیہ کی تربیت کا دوبارہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی فضائیہ نے دو سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر ایران کے جوہری ٹھکانوں پر ممکنہ فوجی حملے کے واسطے تربیت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی "چینل 12" اور " ٹائمز آف اسرائیل" کی ویب سائٹ کی جانب سے جاری رپورٹوں میں بتائی گئی ہے۔

رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ افیف کوخافی نے اس اقدام کی فنڈنگ کا حکم جاری کیا۔

رپورٹوں کے مطابق اسرائیل اور شائد واشنگٹن بھی اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ سفارت کاری کے ناکام ہونے کی صورت میں ایک عسکری پلان فراہم کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ قابل اطلاق عسکری اختیار کے بغیر ایران کو مذاکرات پر قائل کرنا دشوار ہو گا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر خزانہ ایوگڈور لیبرمین یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مقابلہ محض وقت کا مسئلہ ہے "زیادہ وقت" کا نہیں۔ اخبار نے جمعرات کے روز لیبرمین کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کوئی سفارتی کارروائی یا سمجھوتا نہیں روک سکے گا۔

اسرائیلی حکومت نے 5 ارب شیکل (تقریبا 1.5 ارب ڈالر) کے بجٹ کی منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں