.
یمن اور حوثی

بارودی سرنگیں صاف کرنے والے امریکی بحریہ کے جہاز پہلی مرتبہ بحر احمر میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے والے امریکی بحریہ کے دو جہاز گذشتہ سات برسوں میں پہلی بار بحر احمر کے پانی میں داخل ہو گئے۔ ان کی آمد کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں کو تقویت پہنچانا ہے۔

امریکی بحریہ کی مرکزی کمان (ففتھ فلیٹ) نے ٹویٹر پر سرکاری اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ دونوں جہازوں US Gladitor (MCM 11) اور USS Sentry (MCM 3) نے 18 اکتوبر کو آبنائے باب المندب عبور کی۔

یمنی حکومت اور ایران نواز حوثی ملیشیا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوج کی قیادت نے بحریہ کے اس نوعیت کے جہاز کو علاقے میں بھیجا ہے۔ اس کی وجہ حوثیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب کے نزدیک بارودی سرنگوں کے خطرے کا سنگین ہو جانا اور جہاز رانی کے لیے راستہ غیر محفوظ ہو جانا ہے۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں مصروف ترین آبی گزر گاہوں میں سے ہے۔

بدھ کے روز سلامتی کونسل نے ایک بیان میں یمنی ساحلوں کے نزدیک شہری اور تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ کونسل کے مطابق باغیوں کے افعال خلیج عدن اور بحر احمر میں بحری جہازوں کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

بین الاقوامی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کو عسکری ساز و سامان اور لوازمات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں ہزاروں سمندری بارودی سرنگوں اور میزائلوں کے علاوہ ریموٹ کنٹرول کشتیاں شامل ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے بچھائی جانے والی سمندری بارودی سرنگیں مغربی ساحل پر درجنوں ماہی گیروں کی ہلاکت کا سبب بن چکی ہیں۔ ان بارودی سرنگوں کے باعث کئی علاقوں میں مچھیروں کی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ماہی گیری کے پیشے پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے حوثی ملیشیا کی جانب سے یمن میں اندھا دھند طور پر بچھائی گئی 175 سمندری بارودی سرنگیں تباہ کر دی ہیں۔ معلومات سے واضح ہوا ہے کہ جن بارودی سرنگوں کا انکشاف ہوا ہے وہ ایران کی تیار کردہ "صدف" ہیں۔