.

مآرب میں حوثیوں کی فوج کشی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے :امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کو یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے 100 فیصد پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مملکت کے خلاف حوثیوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ سعودی عرب میں 70 ہزار امریکی رہائش پذیر ہیں اور حوثی میزائلوں کی وجہ سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

میں نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیکھا جس سے ظاہر ہو کہ ایران یمن میں جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ حوثیوں کے لیے تہران کی حمایت اور انہیں ہتھیار فراہم کرنا امریکا کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی تنازع میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ "جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر بین الاقوامی اتفاق رائےموجود ہے۔ یمن کی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی طرف سے مآرب میں فوج کشی عالمی برادری کی مرضی کے خلاف ہے۔ مآرب پر حوثیوں کا حملہ امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر گذرتےدن مآرب کے عوام حوثیوں کی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔

لینڈرکنگ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے حوثیوں کی مذمت یمن میں جنگ ختم کرنے کے ہمارے عزم اور عالمی برادری کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلطنت عمان یمن میں جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ ، صدر جو بائیڈن اور وزیر خارجہ (انٹنی بلنکن ) جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔