.

سعودی آرامکو2050ء تک اپنےآپریشنزسےکاربن کے صفراخراج کاہدف حاصل کرلےگی:سی ای او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او)امین الناصر نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کی کمپنی 2050 تک تیل نکالنے اور پیٹرولیم مصنوعات کو مصفیٰ کرنے کے عمل سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا خالص صفرہدف حاصل کرلے گی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ہائیڈرو کاربن کی پیداواری صلاحیت کو ایک کروڑ تیس لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانا چاہتی ہے۔

امین الناصر نے ’سعودی عرب سبزاقدام کانفرنس‘ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آرامکو 2050 تک اپنے آپریشنز سے خالص صفر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اس سے قبل کانفرنس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی عرب ریاست 2060 تک خالص صفرکا ہدف حاصل کرلے گی۔

امین الناصرنے نشان دہی کی کہ گیس میں سرمایہ کاری سےآرامکوکومملکت میں جلائے جانے والے بہت سے مائعات سے چھٹکارا حاصل کرنےکا موقع ملے گا۔انھوں نے خبردار کیا کہ سبز یا نیلی ہائیڈروجن کی کوئی عالمی منڈی نہیں اورمملکت نے پائیداری سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال میں بہت مدد کی ہے۔

امین الناصر نے کہاکہ ’’ہائیڈروکاربن سیکٹر کی شیطانی شکل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ خام تیل کی پیداواری صلاحیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے اور کووِڈ-19 وبا کے بعد معیشتوں کے دوبارہ کھلنے سے کھپت میں اضافہ ہوگا۔

انھوں نے کہاکہ آرامکو وہی کر رہی ہے جواسے کرنا ہے۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ توانائی کے موجودہ اور نئے ذرائع پرتوجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس فورم کے آغاز میں مملکت نے عالمی سطح پرمیتھین کے اخراج میں 30 فی صد کمی لانے کے معاہدے میں شمولیت کی نقاب کشائی کی اور توانائی کے اقدامات کا آغاز کیا جس سے 2030ء تک کاربن کے اخراج میں 27 کروڑ 80 لاکھ ٹن سالانہ کمی آئے گی اور یہ مملکت کے کاربن کےاخراج میں رضاکارانہ کمی کے بیان کردہ ہدف کی مقدارسے دُگنا کمی ہوگی۔