.

سعودی عرب توانائی کی نئی شکلوں کی پیداوار،انھیں مربوط بنانےکےقابل ہے:شہزادہ عبدالعزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود نے کہا ہے کہ مملکت توانائی کی نئی شکلوں کی پیداوار،انھیں ملکی معیشت سے مربوط بنانے اور برآمد کرنے کی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ’’شرق ٹی وی‘‘ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’سعودی عرب کے نزدیک توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ماحول کے تحفظ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔‘‘

شہزادہ عبدالعزیز نے مزید کہا کہ ’’ہم ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنا چاہتے ہیں جو ماحول دوست طریقے سے تیل اور گیس کی کھپت کو ممکن بنائیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ’’ہم سعودی عرب کو توانائی کے تمام شکلوں کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘

قبل ازیں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے الریاض میں منعقدہ ’’سعودی سبز اقدام‘‘ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک کی حیثیت سے 2060ء تک گرین ہاؤس گیسوں کےاخراج میں کمی کا ’’خالص صفر‘‘ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔امریکا نے اس سے دس سال پہلے 2050ء تک ’’خالص صفر‘‘کا ہدف مقرر کررکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب 2030ء تک طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کٹوتی کے ہدف کو دُگنا کرے گا۔‘‘