.

’’سبزہ بحالی‘‘ کے لیے کھڑکی ’خطرناک حد تک تنگ‘ہوچکی:شہزادہ چارلس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے الریاض میں منعقدہ سعودی سبزاقدام فورم میں اپنے پہلے سے ریکارڈ پیغام میں کہا ہے کہ ’’سبزے کی بحالی (گرین ریکوری) کے لیے کھڑکی ’’خطرناک حد تک تنگ‘‘ہوچکی ہے۔‘‘انھوں نے ماحول کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کے عزم اوراقدامات کی تعریف کی ہے۔

شہزادہ چارلس نے کہا کہ سعودی سبزاقدام اور مشرق اوسط سبزاقدام مملکت میں ماحول کے تحفظ کے لیے جاری پیش رفت کومزید تیزکرنے میں مدد گارثابت ہوں گے۔

انھوں نے ماہرین کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گلاسگو میں اکتوبر کے آخرمیں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں قومی سطح پر’’واضح بیس لائنز‘‘ کے تعیّن‘‘اورخالص صفراخراج کے اہداف کے حصول میں رہ نمائی ملے گی۔

الریاض میں ہفتے کے روز منعقدہ اس فورم میں سعودی سبز اقدام کے نقشہ راہ (روڈمیپ) کی نقاب کشائی کی گئی ہےاور مملکت کی سبزے کی بحالی کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔فورم میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2060ء تک کاربن کے خالص صفر اخراج کے ہدف کا اعلان کیا ہے۔

شہزادہ چارلس نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید کہا کہ ’’بالآخر بہت طویل عرصے کے بعد ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان دنیا کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل واضح عالمی چیلنج ٹھہرے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کروناوائرس کی جاری وَبا نےاس بات کو بھی اجاگرکیا ہے کہ انسانی صحت، کرۂ ارض کی صحت اور معاشی صحت بنیادی طورپرایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اب ہمارے پاس مواقع کی ایک خطرناک حد تک تنگ کھڑکی ہے جس میں ہمیں پائیدارمستقبل کی بنیاد رکھتے ہوئے سبزے کی بحالی کا عمل تیز کرناہے۔‘‘

انھوں نے کہاکہ’’مشرقِ اوسط میں موجودہ آب و ہوا قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں قریباً 1 سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے اور مستقبل میں خاص طورپرسال کے گرم ترین اوقات میں اس عالمی حدت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘

شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ زیادہ درجہ حرارت کے خطے کے لوگوں اورماحولیات پرگہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے یا پہلے ہی ان پر گہرااثرپڑ رہا ہے۔نیزاس بات کا خطرہ ہے کہ ’’بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پانی اور توانائی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔لیکن ہم پہلے ہی اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے حقیقی پیش رفت دیکھ رہے ہیں اورہمیں امید ہے کہ سعودی سبزاقدام اورمشرق اوسط سبز اقدام سے کارب کے اخراج کو صفر تک لانے کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت ہوگی۔‘‘

قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات

شہزادہ چارلس کاکہنا تھا:’’ میں گذشتہ کئی برسوں سے اس بات پرزوردینے کی کوشش کررہا ہوں کہ خطے میں کاربن کے اخراج پرقابو پانے کے لیے شمسی توانائی، ہوا، سبزہائیڈروجن سمیت قابل تجدید توانائی کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔قابل تجدید توانائی کی صنعتیں معاشی ترقی کے عمل کو آگے بڑھا سکتی ہیں اور سبزملازمتوں کے مواقع میں اضافہ کر سکتی ہیں۔‘‘

انھوں نے نشان دہی کی کہ ’’توانائی کے انتقال میں مملکت کی عالمی قیادت انتہائی اہم ہے۔زمینی سطح پرعملی منصوبے سبزمعیشت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو زندہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ خطے کو ہرسال ریت کے طوفانوں سے 13 ارب ڈالر کا نقصان ہونے کا تخمینہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقے میں اربوں درخت لگانے کے اقدام سے آیندہ نسلوں کے فائدے کے لیے فی الواقع مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘