.
افغانستان وطالبان

افغانستان کے لیے فضائی حدود کا استعمال،پاکستان اورامریکا معاہدے کے قریب: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے قانون سازوں کو بتایا کہ واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ پاکستان کی فضائی حدود کو افغانستان میں فوجی اور انٹیلی جنس آپریشنز کے لیے استعمال میں لانے کی خاطر باضابطہ معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔

ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد کے بدلے میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کی شرائط ، جنہیں ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہےمیں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

یہ بریفنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وائٹ ہاؤس افغانستان میں زمین پرامریکی موجودگی کی عدم موجودگی میں افغانستان میں داعش اور دیگر مخالفین کے خلاف انسداد دہشت گردی آپریشن کرنے کی اپنی صلاحیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی فوج اس وقت انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی کوششوں میں افغانستان پہنچنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہے لیکن افغانستان میں آپریشن کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے۔

افغانستان کے لیے ہوائی راہداری اس وقت اور زیادہ اہم ہو گئی ہے جب امریکا شہریوں اور ملک میں رہنے والے دیگر افراد کی نقل و حمل کے لیے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر نے کی تیاری کررہا ہے۔

تیسرے ذریعے نے بتایا کہ معاہدے پراس وقت تبادلہ خیال کیا گیا جب امریکی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ اسلام آباد کیا چاہتا ہے یا واشنگٹن کیا فراہم کر سکتا ہے۔

فی الحال باضابطہ معاہدے کی عدم موجودگی میں پاکستان امریکا کے فوجی طیاروں اور ڈرونز کو افغانستان کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں امریکا کے ساتھ "مفاہمت" کے وجود کی تردید کی اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کا علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر دیرینہ تعاون ہے اور دونوں فریق باقاعدہ مشاورت میں مصروف ہیں۔

دریں اثنا ازبکستان اور تاجکستان افغانستان میں نام نہاد کراس افق آپریشن کرنے کے لیے امریکی فوجی موجودگی کے لیے ممکنہ مقامات کے لیے بڑے آپشن کے طور پر ابھر رہے ہیں تاہم دونوں کو روس کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے رواں ماہ کے شروع میں ازبکستان کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے صدر شوکت مرزیوئیف کے ساتھ افغانستان میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔