.
عراقی ملیشیا

بغداد : انتخابی نتائج کے خلاف الحشد الشعبی کے حامیوں کا دھرنا جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا اور دیگر گروپوں کے حامیوں کی جانب سے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے گرین زون میں گذشتہ ہفتے شروع ہونے والا دھرنا ابھی تک جاری ہے۔ حالیہ انتخابات میں الحشد اور ان گروپوں کو غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دھرنا دینے والے احتجاجیوں نے کل ہفتے کی شب گرین زون کے حساس حصے کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تاہم سیکورٹی فورسز نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس سے قبل عراقی گروپ 'عصائب اہل الحق' نے انتہائی پہرے والے علاقے پر دھاوا بولنے کی دھمکی دی تھی۔ دھرنے کے احتجاجیوں کو دس اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں "مبینہ دھاندھلی" پر اعتراض ہے۔ انتخابات میں الفتح اتحاد غیر متوقع طور پر پارلیمنٹ کی درجنوں نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

واضح رہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا کے سیکڑوں حامیوں اور ہمدردوں نے منگل کے روز بغداد کے وسط میں دھرنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے گرین زون کی جانب جانے والے راستے پر درجنوں خیمے نصب کر دیے۔ گرین زون کے علاقے میں حکومتی صدر دفاتر اور امریکا سمیت کئی ملکوں کے سفارت خانے واقع ہیں۔

دھرنا دینے والوں نے "انتخابی جعل سازی" کی مذمت کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔ توقع ہے کہ حتمی نتائج آئندہ ہفتوں میں جاری کر دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ تہران کی مضبوط حلیف ملیشیا الحشد الشعبی کے انتخابی اتحاد "الفتح" کو دس اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق صرف 15 نشستیں مل سکیں۔ اس سے قبل یہ اتحاد 48 نشستوں ک ساتھ پارلیمنٹ میں دوسری بڑی قوت تھا۔

مبصرین کے نزدیک ابتدائی نتائج کے مطابق الحشد الشعبی نے جو خسارہ ریکارڈ کرایا ہے اس کا تعلق ووٹروں کا الحشد کی کارکردگی سے مایوس ہو جانے سے ہے۔ اس کے علاوہ تہران نواز عراقی گروپوں سے منسوب پر تشدد اور کریک ڈاؤن کی کارروائیاں بھی ایک اہم سبب ہے۔

اس کے مقابل شیعہ مذہبی شخصیت مقتدی الصدر کے الصدری گروپ نے انتخابات میں 70 سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔