.

سعودی دارالحکومت الریاض میں کثیرقومی کمپنیوں کے علاقائی صدردفاترکی منتقلی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک سینیرعہدہ دار نے کہا ہے کہ دارالحکومت الریاض میں بین الاقوامی فرموں اور کمپنیوں کے علاقائی صدردفاتر کے قیام کے لیے حکومت کے فیصلے پرکامیابی سے عمل درآمد جاری ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور سب سے بڑی عرب معیشت سعودی عرب نے غیرملکی فرموں کو 2023 کے آخرتک اپنے علاقائی صدردفاترکوالریاض میں منتقل کرنے یا قائم کرنے کی مہلت دی ہے۔ دوسری صورت میں وہ سعودی عرب کے سرکاری معاہدوں یا ٹھیکوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے الریاض شہرکے صدرفہدالرشید نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ کثیرقومی کمپنیوں کو راغب کرنے میں ’’نمایاں کامیابی‘‘ملی ہے۔اس کی تفصیل کا اعلان سعودی عرب کے فلیگ شپ انویسٹمنٹ فورم ایف آئی آئی میں کیا جائے گا۔ یہ فورم منگل سے شروع ہوگا۔

فہد الرشید نے سعودی ماحول فورم میں ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک بارجب بین الاقوامی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع اوراس قسم کی ہماری مکمل پیش کش کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے تووہ فوری طور پرالریاض میں منتقلی کا فیصلہ کرتی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ خطے کے دیگرشہروں میں کثیرقومی کمپنیاں جو کچھ کاروبارکررہی ہیں،یہ فیصلہ اسے ختم کرنے کے لیے نہیں ہے۔انھوں نے علاقائی سطح پر وجود نہ رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں پربھی زوردیا کہ وہ سعودی دارالحکومت میں اپنے ذیلی دفاتر قائم کریں۔

سعودی حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے مملکت کوعلاقائی کاروباری مرکز بنانے کی مہم کے تحت کتنی کمپنیوں نے اپنے علاقائی صدردفاترکوالریاض میں منتقل کیاہے۔

پیپسی کو، شلمبرجراور بیچ ٹیل سمیت متعددغیرملکی کمپنیوں نے رواں سال کے اوائل میں دبئی سے کاروباری سرگرمیوں کی فاصلاتی نگرانی کے بجائے سعودی عرب میں علاقائی دفاتر کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔ذرائع نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ دبئی میں سعودی میڈیاکمپنیوں نے بھی اپنے عملہ کو الریاض منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

فہد الرشید نے بتایا کہ ’’ہم ہرشعبے کو مراعات دے رہے ہیں، یہ کوئی اجتماعی ترغیب کا عمل نہیں ہے،بنک کاری کے شعبے کوترغیب دینا’’انتہائی آسان‘‘ہوگا۔‘‘انھوں نے ولی عہد کے نئی صنعتوں کی تعمیراورمیگا پروجیکٹ شروع کرکے قومی معیشت کےتیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے کے منصوبے اور الریاض کے لیے ایک مخصوص حکمت عملی کا حوالہ دیا۔اس کا اعلان جلد کیا جارہاہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف الریاض پائیدارحکمت عملی کے تحت نجی شعبے کے لیے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کےمواقع دستیاب ہیں۔انھیں سرمایہ کار بنکوں کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے مواقع کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔

سعودی عرب آیندہ عشرے میں اپنے دارالحکومت شہرکی آبادی اور معیشت کو دگنا کرنے کاعزم رکھتا ہے جہاں اس وقت قریباً 70لاکھ افراد آبادہیں۔اس کے علاوہ سعودی حکومت شہریوں کا معیارِزندگی بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔