.

مآرب: تین روزمیں عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں 260 سے زیادہ حوثی جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جنگ آزماعرب اتحاد نے اتوارکے روزاطلاع دی ہے کہ تزویراتی اہمیت کے حامل شہرمآرب اور اس کے نواحی علاقوں میں گذشتہ تین روزکے دوران میں فضائی حملوں میں 260 سے زیادہ حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی نے عرب اتحاد کے حوالے سے بتایا ہے کہ گذشتہ 72 گھنٹے کے دوران میں مآرب کے جنوب میں 50 کلومیٹر(30 میل) کے فاصلے پر الجوبہ اور شمال مغرب میں 30 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع الکسارہ میں فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا کی چھتیس فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ان حملوں میں 264 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو شاذ ہی اپنے جانی نقصان کےبارے میں کوئی بیان جاری کرتے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی (اے ایف پی) کا کہنا ہے کہ وہ آزادانہ طورپران ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرسکی ہے۔

عرب اتحاد نے گذشتہ دو ہفتے سے شمالی یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی عمل داری میں تیل کی دولت سے مالا مال مآرب اور اس کے نواحی علاقوں میں قریباً روزانہ ہی فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں 1600 کے قریب حوثی جنگجوہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے مآرب شہر سے قریباً 100 کلومیٹر(60 میل) کے فاصلے پرواقع ضلع العبدیہ میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف زیادہ تر فضائی بمباری کی ہے۔

حوثیوں نے فروری میں مآرب پر قبضے کے لیے سرکاری فوج کے خلاف ایک بڑا دھاوا بولا تھا اور پھر کچھ عرصہ خاموشی اختیار کرنے کے بعدستمبر میں یمنی فوج کے خلاف دوبارہ جارحیت شروع کی تھی۔

واضح رہے کہ مآرب میں اس لڑائی کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔یمن میں گذشتہ سات سال سے جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے اس لڑائی کو دنیا کے ایک بدترین انسانی بحران کا شاخسانہ قراردیا ہے۔اقوام متحدہ کے بچّوں کے فنڈ یونیسیف نے گذشتہ منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں گذشتہ سات سال سے جاری تنازع میں کم سے کم دس ہزار بچّے ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔