.

وڈیو : اسمارٹ فون استعمال کرنے پر طالبان عناصر نے بچوں کو تھپڑ جڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان تحریک کے عناصر کی حرکتیں انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہیں۔ طالبان نے رواں سال اگست کے وسط میں پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں افغان صارفین نے سوشل میڈیا پر چند وڈیو کلپوں کو پھیلایا ہے۔ ان وڈیوز میں طالبان کے عناصر زمین پر سزا میں بٹھائے گئے بچوں کو تھپڑ رسید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سزا کی وجہ ان بچوں کا اسمارٹ فون استعمال کرنا ہے۔

کابل کے ایک پارک میں بنائی گئی وڈیو میں موجود بچوں کی عمریں 13 سے 15 برس کے درمیان ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس وڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم سوشل میڈیا پر افغان شہریوں کے بیچ یہ وسیع پیمانے پر گردش میں آ رہی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں طالبان کی جانب سے دانستہ طور پر مختلف سرگرمیوں اور تصرفات پر پابندی عائد کی گئی۔ جنوبی صوبے ہلمند میں حجاموں کو داڑھی کاٹنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح کام کے وقت دکانوں پر موسیقی بجانا بھی ممنوع قرار دیا گیا !

ملک میں اکثر ہائی اسکول لڑکیوں اور معلمات کے لیے ابھی تک بند ہیں۔ اسی طرح طالبان کی ہدایات پر بعض سرکاری دفاتر خواتین اہل کاروں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد سے ہزاروں شہری ملک سے فرار ہو گئے۔ ان افراد کو طالبان کے پہلے دور حکومت کے دوران نافذ کیے گئے سخت اقدامات اور فیصلوں کے دوبارہ عمل میں آنے کا خوف تھا۔

ماضی میں طالبان کے دور میں افغان خواتین کھیلوں کی سرگرمیوں ، تعلیم اور یہاں تک کہ سفر کرنے سے بھی محروم ہو چکی ہیں۔