.

اخوان نوجوان قیادت سے مایوس، شیخ الازھر سے ثالثی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی جیلوں میں قید اخوان کی قیادت نے ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی دینی درس گاہ الازہر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب سے مطالبہ کیا کہ وہ ثالثی کریں اور ان کی سزائیں معاف کرانے کے لیے مداخلت کریں۔ اخوان قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار ہیں۔

اخوان المسلمون کے یوتھ گروپ نے شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور ان کے دکھ اور حالات کو ختم کریں۔ انہوں نے 2 اکتوبر کو لکھے گئے ایک مکتوب میں گروپ نے صلح کے لیے یا انہیں حراست سے نکالنے کے لیے ایک جامع تصفیہ کی اپیل کی تاکہ اخوان کی قیادت اور کارکنوں کو جیلوں سے نکالا جا سکے۔

یہ مکتوب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شائع کیا گیا۔

مصری جیلوں میں اخوان کے نوجوانوں کی جانب سے یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ماہ قبل اخوان یوتھ کی طرف سے جماعت کی قیادت سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کی وساطت سے سزائیں معاف کرانے کے لیے ان سے مدد لیں۔

پراسرار انجام

مصر کی وادی نطرون میں جیل 430، جیل 440، طرہ جیل، ولیمان حراستی مرکز، سخت سیکیورٹی والی جمصہ جیل، المنیا، لیمان، اسکندریہ میں سخت سیکیورٹی والی برج العرب جیل، الخضرہ اور العبدیہ جیلوں میں قید اخوان کے نوجوانوں نے ترکی اور برطانیہ اور دوسرے ممالک میں موجود اخوان قیادت پر زور دیا کہ وہ مصری جیلوں میں قید اخوان رہ نماؤں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششیں کریں۔ مکتوب میں کہا تھا کہ مصر کی جیلوں میں پابند سلاسل اخوان قیادت کا مستقبل تاریک ہے اور ان کی رہائی کے لیے جماعت کی بیرون ملک موجود قیادت کو ہر فورم پر کوشش کرنی چاہیے۔

دو سال قبل مصری جیلوں میں اخوان کے یوتھ گروپ کی طرف سے حکومت سے سزائیں معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے جامعہ الازھر کے سربراہ شیخ الازھر سے بھی مداخلت کرنے اور ان کی سزائیں معاف کرانے کے لیے ثالثی پر زور دیا تھا۔

مصری جیلوں کے اندر سے جاری ہونے والے اپنے پیغامات میں نوجوانوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے رہ نماؤں سخت مایوس ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں جیلوں میں تنہا چھوڑ دیا ہے اور ہمارے خاندانوں کو بھی بے یار و مدد گار چھوڑ رکھا ہے۔ انہیں اپنے فکری اور نظریاتی اصولوں کے دفاع کی سزا مل رہی ہے جب کہ جماعت کی بیرون ملک قیادت ان کے لیے آواز بلند نہیں کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گروپ کے رہ نماؤں نے نوجوانوں کی جانب سے "5000 ڈالر اینی شی ایٹیو" کا اعلان کیا گیا تھا۔