.

الامارات ائیرلائن اگلے چھے ماہ میں آپریشنل عملہ میں6 ہزارملازمین بھرتی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی ملکیتی الامارات ائیرلائن نےاگلے چھے ماہ کے دوران میں 6 ہزار سے زیادہ ملازمین پرمشتمل نیا آپریشنل عملہ بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپنی آپریشنل افرادی قوت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

ایئرلائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کووِڈ-19 کی ویکسین بڑے پیمانے پرلگوانے کے ساتھ دنیا بھرمیں پابندیاں کم ہورہی ہیں،فضائی روابط بحال ہورہے ہیں اور صارفین کی طلب میں توقع سے جلد اضافے کے پیش نظرفضائی کمپنی کواپنے عالمی نیٹ ورک آپریشنز میں تیزی لانے کے لیے اضافی پائلٹ، کیبن کریو، انجینئرنگ ماہرین اور برسرزمین مزید عملہ درکار ہوگا۔

قبل ازیں ایئرلائن نے ستمبر میں یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے کووِڈ-19 وبا کے بعد دنیا بھر میں 3000 کیبن کریو اور500 ایئرپورٹ سروسزملازمین کی بھرتی کے لیے مہم شروع کردی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ چونکہ سفری طلب میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،اس لیے اب الامارات کو دبئی اور اپنے نیٹ ورک میں گراؤنڈعملہ میں اضافی 700 ملازمین بھرتی کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مزید برآں دبئی میں قائم عالمی ایئرلائن فلائٹ آپریشنز ٹیم میں شمولیت میں دلچسپی رکھنے والے 600 اہل پائلٹوں کی بھرتی کررہی ہے۔الامارات اپنی انجینئرنگ ٹیم کو تقویت دینے کے لیے 1200 ہُنرمندوں کی اپنے تکنیکی عملہ میں خدمات حاصل کرے گی۔ ان میں ایئرکرافٹ انجینئرز اورانجینئرنگ اسپورٹ سٹاف شامل ہے۔یہ عملہ دبئی اور بیرون ملک اسٹیشنوں پرتعینات ہوگا۔

الامارات کے مطابق وہ پہلے ہی اپنا 90 فی صد نیٹ ورک بحال کرچکی ہے اور 2021 کے آخر تک وبا سے قبل کی صلاحیت کے 70 فی صد تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔

الامارات دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی ایئرلائن ہے۔وہ اپنی پروازوں کے شیڈول میں اضافہ کررہی ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرسکے۔ وہ اپنے نیٹ ورک کے مقبول روٹس پراپنے اعلیٰ صلاحیت کے ڈبل ڈیکر اے 380 طیارے بھی چلارہی ہے۔ نومبر تک الامارات اپنے فلیگ شپ اے 380 طیاروں میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زیادہ اضافی نشستیں پیش کرے گی۔

الامارات ایئرلائن اورگروپ کے چیئرمین اورچیف ایگزیکٹوآفیسر احمد بن سعید آل مکتوم کا کہنا ہے:الامارات ہمیشہ دبئی کی ترقی کامحوررہی ہے۔6000 اضافی آپریشنل عملہ کی ضرورت دبئی کی معیشت کی فوری بحالی کی علامت ہے اور اس سے صارفین، سفر اور سیاحت کے شعبوں سمیت مختلف دیگرکاروباری اداروں میں بھی معاشی نمو کے مواقع میسرہوں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم سرحدوں کو دوبارہ کھولنے اور سفری پروٹوکول میں آسانی کے مطابق دانش مندی سے اپنی سرگرمیاں بحال کررہے ہیں اور معاشی بحالی اورطلب میں مسلسل اضافے میں مثبت اشاروں کے ساتھ ہم 2022 کے وسط تک وبا سے پہلے کے دور کی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے پرامید ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ الامارات بوئنگ 777 اور اے 380 دونوں طیاروں کی دنیا میں سب سے بڑی آپریٹرہے۔ اس کے فضائی بیڑے میں اس وقت بڑے حجم والے 263 طیارے شامل ہیں۔نیزاس کے پاس مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کے لیے متعدد نئے طیارے ہیں۔ان میں ایئربس اے 350، بوئنگ 787-9 اور بوئنگ 777-ایکس طیاروں کی اقسام شامل ہیں۔

الامارات کے تمام بوئنگ 777 طیارے فعال اورچالو حالت میں ہیں جو مسافراورمال برداری دونوں مقاصد کے لیے 120 سے زیادہ مقامات پرمحو پرواز ہیں۔ایئرلائن اس وقت اپنے فلیگ شپ اے 380 طیارے بھی 18 شہروں کے لیے اڑاتی ہے اور جلد ہی اسے 65 فی صد سے بڑھا کر نومبرکے آخرمیں 27 مقامات تک اڑانا شروع کردے گی۔ دسمبر تک مزید دواے 380 الامارات کے بیڑے میں شامل ہونے کے لیے دستیاب ہوں گےاوراس کے اے 380 طیاروں میں سے قریباً 50 فعال اور چالوحالت میں ہوں گے۔