.

سعدالجابری اپنے مالی جرائم چھپانے کے لیے من گھڑت کہانیاں گھڑرہے ہیں: سعودی سفارت خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’بدنام زمانہ سابق سرکاری عہدہ دارسعد الجابری اپنے مالی جرائم کو چھپانے کے لیے من گھڑت کہانیاں گھڑنےکی ایک طویل تاریخ کے حامل ہیں۔‘‘

واشنگٹن ڈی سی میں مملکت کے سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے:’’سعدالجابری ایک بدنام سابق سرکاری عہدہ دارہیں۔ان کی طویل تاریخ ہے کہ انھوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ایک پرتعیّش طرززندگی کے لیے اربوں ڈالر کے مساوی مالیاتی جرائم کا ارتکاب کیا،اب وہ ان کی پردہ پوشی کے لیے کہانیاں گھڑرہے ہیں۔‘‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ’’سعدالجابری نے اپنے جرائم کی تردید نہیں کی ہے؛بلکہ درحقیقت ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت چوری قابل قبول تھی لیکن ایسا کچھ اس وقت قابل قبول تھا اور نہ ہی قانونی تھا اور نہ اب ایساکرنا جائزہے۔‘‘

وال اسٹریٹ جرنل کی جولائی 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق الجابری اوران کے زیرقیادت مردوں کے ایک گروپ نے سرکاری فنڈز میں سے 11 ارب ڈالرخردبرد کیے تھے۔تب وہ سعودی وزارت داخلہ میں کام کرتے تھے۔

امریکی اخبارنے امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ سعدالجابری سعودی وزارت داخلہ میں انسداد دہشت گردی کی اعلیٰ سطح کی کوششوں کے لیے مختص فنڈکے نگران تھے۔اخبار نے بتایا تھاکہ سعد نے 17 سال کے دوران میں خودکو،اپنے خاندان اورجاننے والوں کو بونس میں 11 ارب ڈالرادا کیے تھے اور اس طرح سرکاری فنڈزکا غلط استعمال کیا تھا۔

سعودی سفارت خانے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہےکہ ’’ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اصلاحات نےاس قسم کی’’شدیدبدعنوانی‘‘کوختم کردیا ہے۔آج ملک کی آمدن کا استعمال بے مثال معاشی اورسماجی ترقی کے لیے فنڈ مہیا کرنے، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، معیشت کے تنوع، نوجوانوں اورخواتین کوبااختیاربنانے اورایک ایسی قوم کی تعمیرمیں تعاون کے لیے کیا جاتا ہے جس میں رواداری،اعتدال پسندی، اختراع اور کاروباری صلاحیتیں غالب ہوں۔‘‘

الجابری کی امریکی عدالت میں شکایت

بدعنوانی کے الزامات میں مملکت میں مطلوب سعدالجابری نے 2020 میں سعودی حکومت کے خلاف امریکا میں ایک شکایت درج کرائی تھی۔

106صفحات کومحیط اس غیرثابت شدہ شکایت میں الجابری نے مبیّنہ طور پر سعودی عرب کے خلاف مختلف قسم کے سیاسی الزامات لگائے ہیں۔اس میں انھوں نے خود کو یمن کے بارے میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے مؤقف اور روس کوشام میں مداخلت کی ’اجازت‘دینے کے واضح فیصلے سے متصادم قراردیاہے۔

الجابری کے بیانات آن لائن منظرعام پرآنے کے بعد مبصرین نے نشاندہی کی کہ وزارتِ داخلہ کے اس سابق عہدہ دارکا سعودی عرب کی خارجہ پالیسی سے تو کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ وہ ایک سرکاری ملازم تھااور ایسا لگتا ہے کہ وہ بدعنوانی کے مقدمے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے اور اس پر سیاست کررہا ہے۔

سعودی عرب کے تجربہ کارصحافی اور مصنف عبدالرحمٰن الراشد نے کہا کہ’’ سعدالجابری ایک سیکورٹی افسر ہیں۔ کسی بھی سیاسی فیصلے پران کی کبھی کوئی رائے تھی اور نہ وہ سیاسی فیصلے کےعمل کا حصہ تھے۔درحقیقت وزارتِ داخلہ میں کسی عہدہ دار کاروس کے ساتھ تعلقات یا بین الاقوامی تعلقات پرکوئی اثرورسوخ نہیں ہوتا ہے۔‘‘