.

سوڈان میں نیا بحران؛سعودی عرب کا تحمل سے کام لینے اورکشیدگی کے خاتمے پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ سوڈان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کو’’تشویش‘‘ کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ہے اور وہ ان پرمسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سوڈان میں تحمل اور بردباری سے کام لینے اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب نے سوڈان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حاصل ہونے والے تمام سیاسی اورمعاشی فوائد اور ان تمام مقاصد کا تحفظ کرے جن کا ہدف تمام سیاسی اجزاء وعناصر کو متحد کرنا ہے۔

اس نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب پڑوسی ملک سوڈان اور اس کے عوام کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے حصول میں ممدومعاون ہراقدام کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

قبل ازیں سوڈان کی فوج کے جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ ملک کی خود مختارکونسل اور حکومت تحلیل کر دی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فوج اقتدار ایک منتخب سویلین حکومت کے حوالے کرنے سے قبل ملک میں انتقالِ جمہوریت کا عمل جاری رکھے گی۔انھوں نے جولائی 2023 میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں بظاہر بغاوت کی واضح کوشش کے بعد جھڑپوں میں 12 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔