.

عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں حکومت پر شب خون مارا گیا ہے: ڈائریکٹر وزیراعظم بیورو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے دفتر کے ڈائریکٹر آدم حریکہ نے تصدیق کر دی ہے کہ وزیر اعظم کو عسکری فورس کے ہاتھوں کسی نا معلوم مقام کی جانب لے جایا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے آدم کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج صبح وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔ آدم کو وہاں یہ علم ہوا کہ وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو کسی نا معلوم مقام لے منتقل کیا گیا ہے۔ البتہ عسکری انقلاب تسلیم کرنے کے لیے حمدوک پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

آدم کے نزدیک عسکری جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بحرانات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اس کھیل کی قیادت عبوری کونسل کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اتوار کے روز عبوری کونسل کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم نے حکومت تحلیل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر کے مطابق عسکری ادارہ اقتدار حوالے کرنے کے سلسلے میں اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں چاہتا ہے۔ ادارے نے متعدد سویلین نمائندوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔

عبدالفتاح البرہاان
عبدالفتاح البرہاان

آدم نے بتایا کہ اتوار کی ملاقات میں عبوری کونسل کے فوجی سربراہ بعض سیاست دانوں کی جانب سے فوج پر تنقید کے سبب غصے میں تھے۔

یاد رہے کہ العربیہ اور الحدث چینلوں کی نامہ نگار کے مطابق آج صبح وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے متعدد وزراء کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔

واضح رہے کہ تازہ ترین گرفتاریاں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرہان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ملاقات میں براعظم افریقہ کے لیے امریکی ایلچی جیفری ویلٹمین کی تجاویز زیر بحث آئیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ستمبر میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے حکومت میں شامل شہری اور عسکری حکام کے بیچ تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔