.

سوڈان میں متعدد وزرا گرفتار ، خرطوم میں سیکورٹی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں پیر کو علی الصبح سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی دیکھی گئی۔ اس دوران انٹرنیٹ اور فون سروس منقطع کر دی گئی۔ العربیہ اور الحدث چینلوں کی نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے متعدد وزراء کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں کابینہ کے امور کے وزیر خالد عمر يوسف، وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ فیصل محمد صالح اور وزیر صنعت ابراہيم الشيخ کے علاوہ 3 سیاسی جماعتوں کے ذمے داران بھی شامل ہیں۔ یہ جماعتیں سوڈانی کانگریس پارٹی، البعث العربی پارٹی اور یونینسٹ ایسوسی ایشن ہیں۔

ادھر یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے گھر کا محاصرہ کیے جانے کے بعد انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق حمدوک کی رہائش گاہ کے سامنے عسکری نفری دیکھی جا رہی ہے۔

فیس بک پر سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن کی جانب سے کال دی گئی ہے کہ حکومت اور سول اتھارٹی کی حمایت میں عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں اس طرح کی خبروں کی تصدیق کی ہے کہ اقتدار پر قبضے کے لیے عسکری نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی فوجی انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے سوڈان کے تمام شہروں میں عوام باہر نکل آئیں۔

بعد ازاں دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر غصے میں بپھرے ہوئے درجنوں احتجاجیوں کو دیکھا گیا۔ یہ لوگ وزرا کی گرفتاری کی مذمت کر رہے تھے۔ مشتعل افراد نے ٹائر بھی جلائے۔

عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرھان
عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرھان

العربیہ کی نامہ نگار نے نے حالیہ جاری نقل و حرکت کو شہری حکومت کا تختہ الٹنے جیسا قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ توقع ہے کہ خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان آج کسی وقت بیان جاری کریں گے جس میں ملک کے موجودہ حالات کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ تازہ ترین گرفتاریاں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرہان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ملاقات میں براعظم افریقہ کے لیے امریکی ایلچی جیفری ویلٹمین کی تجاویز زیر بحث آئیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ستمبر میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے حکومت میں شامل شہری اور عسکری حکام کے بیچ تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔