.

سعودی وزیر سیاحت کابعدازکووِڈ دنیا میں واحد سفری پروٹوکول اختیارکرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرسیاحت احمد الخطیب نے منگل کے روز’سیاحت کا مستقبل ۔۔۔عالمی تناظر میں‘کے عنوان سے منعقدہ فورم میں کروناوائرس کی وبا کے بعد دنیا بھر میں متحدہ سفری پروٹوکول اختیارکرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر سیاحت نے الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی) کانفرنس کے موقع پر اس فورم میں کہا کہ ’’میں گذشتہ چھے ماہ سے محو سفر ہوں اور اس دوران میں 200 گھنٹے سے زیادہ وقت طیارے میں گزار چکا ہوں۔‘‘

اس فورم کے میزبان امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے رچرڈ کوئسٹ تھے۔احمدالخطیب نے مزید کہاکہ ’’انھوں نے بہت سے سیاحتی کمیشنوں میں شرکت کی ہے تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے ایک متحدہ پروٹوکول وضع کرنے کے لیے نجی شعبوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے کیونکہ وہی سیاحت کے شعبے کو چلاتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس شعبے کو ریگولیٹ کرتے ہیں اور وہ (پرائیوٹ سیکٹر)اس کو چلاتا ہے۔اس لیے ہمیں ایک متحدہ سفری پروٹوکول کی ضرورت ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ آج،سفرایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔یورپ تنہا کام کررہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دیگرتمام براعظم بھی مل جل کرکام کریں۔

عارضی بحران

مملکت کی سیاحت کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھے جانے پر سعودی وزیرنے کہا کہ’’2020 میں دنیا کے ملکوں نے اپنی اپنی سیاحت کی صنعت میں 33 کروڑ ملازمتوں میں سے چھے کروڑ سے زیادہ ملازمتیں کھودی ہیں اوراس بحران نے یقینی طور پر ہماری صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔‘‘

احمدالخطیب نے مزید کہا:’’اس وبا(کووِڈ-19)میں یہ بحران عارضی، قلیل مدتی ہیں۔ ہم ہمیشہ طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا شعبہ یقینی طور پر بحال ہوگا۔‘‘

اس موقع پر کارنیوال کارپوریشن کے سی ای او اور ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) کے چیئرمین آرنلڈ ڈونالڈ نے کہا کہ ’’سیاحت کی صنعت کی بحالی کے لیے حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک کی ضرورت ہے۔

انھوں نے رائے پیش کی کہ ہمیں مندرجہ ذیل تین کام کرنے کے لیے شراکت داری کی ضرورت ہے:ایک،ہم آہنگی اور کسی رکاوٹ کے بغیر سفر۔دوم،دنیا بھر میں جہاں جہاں ویکسین لگائی گئی ہے،ہمیں ان مختلف مقامات میں لگائی ویکسین یا حفاظتی ٹیکوں کو قبول کرنا ہوگا تاکہ کسی رکاوٹ کے بغیر سفرکیا جا سکے۔نیز ویکسین لگانے کے عمل میں مساوات ہونی چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سبھی لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے۔تیسری بات یہ ہے کہ اس کے بعد ہمیں سفر کو آسان بنانے کے لیے مشترکہ آلات درکارہوں گے،مثلاً ڈیجیٹل پاسپورٹ۔

کارنیوال کارپوریشن کے سی ای او نے کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے ممالک کو سفر کو ہم آہنگ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے لیکن صحت عامہ کے بہترین مفادات کو بھی سب سے مقدم رکھا جانا چاہیے۔

سعودی عرب کے سالانہ سرمایہ کاری فورم (ایف آئی آئی) کا پانچواں ایڈیشن منگل 26 اکتوبرکو دارالحکومت الریاض میں شروع ہوا ہے اور یہ 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔اس سال کا موضوع:’’انسانیت میں سرمایہ کاری‘‘ہے۔