.

عالمی کمپنیاں الریاض میں علاقائی ہیڈکوارٹرزکی منتقلی کا آج اعلان کریں گی: سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نےالعربیہ سے انٹرویومیں انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں دارالحکومت الریاض میں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرکے قیام کے حوالے سے آج بدھ کو اہم اعلان کررہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام (فیوچرانویسٹمنٹ انیشی ایٹو،ایف آئی آئی) کانفرنس کے موقع پربتائی ہے۔

فروری کے اوائل میں سعودی عرب نے 24 ملٹی نیشنل کمپنیوں کےایک گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے اورانھوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ الریاض میں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرقائم کریں گی کیونکہ مملکت اپنے دارالحکومت کو اب ایک بڑے کاروباری مرکز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

جو کمپنیاں مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس کے آخری سیشن کے موقع پر الریاض میں اپنے علاقائی صدر دفاترکے قیام کااعلان کرنے والی ہیں،ان میں امریکی انجینئرنگ گروپ بیچٹل کارپوریشن، بھارتی ہوٹل کمپنی او یوہوٹلزاینڈ ہومز سمیت بعض دیگرفرمیں شامل ہیں۔

سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے الریاض شہرکے صدرفہدالرشید نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ کثیرقومی کمپنیوں کو راغب کرنے میں ’’نمایاں کامیابی‘‘ملی ہے۔اس کی تفصیل کا اعلان سعودی عرب کے فلیگ شپ انویسٹمنٹ فورم ایف آئی آئی میں کیا جائے گا۔

فہدالرشید نے سعودی ماحول فورم میں ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک بارجب بین الاقوامی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع اوراس قسم کی ہماری مکمل پیش کش کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے تووہ فوری طور پرالریاض میں منتقلی کا فیصلہ کرتی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ خطے کے دیگرشہروں میں کثیرقومی کمپنیاں جو کچھ کاروبارکررہی ہیں،یہ فیصلہ اسے ختم کرنے کے لیے نہیں ہے۔انھوں نے علاقائی سطح پر وجود نہ رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں پربھی زوردیا کہ وہ سعودی دارالحکومت میں اپنے ذیلی دفات قائم کریں۔

سعودی حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایاکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے مملکت کوعلاقائی کاروباری مرکز بنانے کی مہم کے تحت کتنی کمپنیوں نے اپنے علاقائی صدردفاترالریاض میں منتقل کیے ہیں۔

پیپسی کو، شلمبرجراور بیچ ٹیل سمیت متعددغیرملکی کمپنیوں نے رواں سال کے اوائل میں دبئی سے کاروباری سرگرمیوں کی فاصلاتی نگرانی کے بجائے سعودی عرب میں علاقائی دفاتر کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔ذرائع نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ دبئی میں سعودی میڈیاکمپنیوں نے بھی اپنے عملہ کو الریاض منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

فہد الرشید نے بتایا کہ ’’ہم ہرشعبے کو مراعات دے رہے ہیں، یہ کوئی اجتماعی ترغیب کا عمل نہیں ہے،بنک کاری کے شعبے کوترغیب دینا’’انتہائی آسان‘‘ہوگا۔‘‘انھوں نے ولی عہد کے نئی صنعتوں کی تعمیراورمیگا پروجیکٹ شروع کرکے قومی معیشت کےتیل کی آمدن پرانحصار کم کرنے کے منصوبے اورالریاض کے لیے ایک مخصوص حکمت عملی کا حوالہ دیا۔اس کا اعلان جلد کیا جارہاہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف الریاض پائیدارحکمت عملی کے تحت نجی شعبے کے لیے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کےمواقع دستیاب ہیں۔انھیں سرمایہ کار بنکوں کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے مواقع کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔

سعودی عرب آیندہ عشرے میں اپنے دارالحکومت شہرکی آبادی اور معیشت کو دُگنا کرنے کاعزم رکھتا ہے جہاں اس وقت قریباً 70لاکھ افراد آبادہیں۔اس کے علاوہ سعودی حکومت شہریوں کا معیارِزندگی بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔