.

فوج نے سوڈان میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے حکومت کومعزول کیا:جنرل البرہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی مسلح افواج کے اعلیٰ جنرل عبدالفتاح البرہان نے منگل کے روز کہا ہے کہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک ’’میرے گھر‘‘پر موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ فوج نے ملک میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے عبوری حکومت کو معزول کیا ہے۔

انھوں نے وزیراعظم حمدوک کی حکومت کے خلاف مبیّنہ فوجی بغاوت کے ایک روز بعد یہ وضاحت کی ہے۔سوموار کو ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فوجیوں نے عبداللہ حمدوک کوان کے بعض وزراء سمیت حراست میں لے لیا ہے۔

جنرل عبدالفتاح البرہان نے دارالحکومت خرطوم میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ’’جی ہاں، ہم نے وزراء اور سیاست دانوں کو گرفتار کیا ہے لیکن ان میں سے سب کو نہیں، عبداللہ حمدوک کی صحت اچھی ہے اور جب بحران ختم ہو جائے گا تو وہ گھر کو لوٹ جائیں گے۔‘‘

انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ عبداللہ حمدوک کی حکومت کو معزول کرنے کا فیصلہ ملک میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔انھوں نے سیاسی قوتوں پر مسلح افواج کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام عاید کیا اور کہا کہ مسلح افواج نے سوڈانی عوام کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ممکنہ رعایتیں دی ہیں۔

جنرل البرہان نے عبوری حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے ایک دن بعد نیوزکانفرنس میں کہا:’’ہمارا مقصد سویلین حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہے۔آنے والے دنوں میں (اس مقصد کے لیے)عدالتی ادارے تشکیل دے دیے جائیں گے۔‘‘

دریں اثناء جمہوریت کے حامی سوڈانی مظاہرین نے دارالحکومت میں بعض مقامات پرعارضی رکاوٹیں کھڑی کرکے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردی ہیں۔وہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔سوڈانی فوج کے اس اقدام کی عالمی برادری نے وسیع پیمانے پرمذمت کی ہے۔

فوج نے یہ اقدام سویلین رہنماؤں کے ساتھ جمہوری ادروں کے قیام اور جمہوریت کی بحالی کے عمل کی رفتارپر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کیا ہے۔ اس نے دوسال قبل شروع کیے گئے جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔سوڈان میں مزعومہ جمہوری عمل دوسال قبل عوامی بغاوت کے نتیجے میں سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کا تختہ الٹنے کے بعد شروع ہواتھا۔اب جمہوریت نوازوں کے نزدیک اس میں رخنہ آگیا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج بند کمرے کے اجلاس میں سوڈان کی صورت حال پرغورکررہی ہے۔ سعودی عرب اور امریکا سمیت بعض ممالک نے سوڈان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام معاملات کو افہام وتفہیم سے طے کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔