.

ترکی مخالفانہ برتاؤکررہا ہے،ایف 16جیٹ فروخت نہ کیے جائیں:ارکان کانگریس کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن ارکان نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ترکی کو ایف 16 لڑاکا طیارے فروخت نہ کرے۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی امریکا مخالف برتاو کررہا ہے۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمایندگان کے رکن نیکول مالیوٹوکیس اور ڈیموکریٹک رکن کیرولن میلونی کی قیادت میں گیارہ ارکان نے صدربائیڈن اور وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کوایک خط لکھاہے۔اس میں انھوں نے ترکی کوایف 16لڑاکا طیاروں کی فروخت کی اطلاعات پراپنی تشویش کا اظہارکیا ہے اوراس اعتمادکااظہار کیاہے کہ کانگریس ایسی کسی بھی فروخت کوروک دے گی۔

قانون سازوں نے لکھاکہ’’صدر(رجب طیب)ایردوآن کے ستمبرمیں اس اعلان کے بعد کہ ترکی روسی ساختہ ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی ایک اضافی کھیپ خریدکرے گا،ہم امریکاکے تیارکردہ طیارے کسی اورملک سے معاہدے کے اتحادی ترکی کو بھیج کراپنی قومی سلامتی پر سمجھوتے کے متحمل نہیں ہوسکتے جبکہ وہ ایک مخالف کی طرح کابرتاؤبھی کرتارہتا ہے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں:’’جب تک صدرایردوآن مشرقی بحیرہ روم میں اپنے توسیع پسندانہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے، ترکی ہماری قومی سلامتی اور خطے میں ہمارے قریبی اتحادیوں یعنی یونان، اسرائیل اور قبرص کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا رہے گا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ترکی کے لڑاکا طیاروں کے بڑھتے ہوئے فلیٹ کو تقویت بہم پہنچانے سےانکارکیاجائے،آپ ہمارے قومی مفاد اورمشرقی بحیرہ روم میں استحکام کی خاطرکام کریں۔ہم آپ کا جواب ملنے کے منتظرہیں۔‘‘

امریکا نے روس سے ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے بعد ترکی کو 2019 میں ایف 35 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے مشترکہ پروگرام سے خارج کردیا تھا۔امریکا ترکی کی روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے سودے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

ترک صدر ایردوآن نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ان کاملک ایف 35 کے بجائے ایف 16لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے امریکاکے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔تاہم امریکا نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ترکی کو ایف 16 لڑاکا جیٹ کی فروخت کی کوئی پیش کش کی ہے۔البتہ اس کا کہنا ہے کہ اس نے ترکی کو جنگی طیاروں کے لیے مالی معاونت کی پیش کش نہیں کی ہے۔

صدرایردوآن نے اس بات پر بھی زوردیا کہ ترکی ایف 35 لڑاکا طیاروں کی قیمت خرید کے طور پرامریکا کو اداشدہ ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی وصولی کے لیے پرعزم ہے کیونکہ واشنگٹن نے خود ترکی کویہ طیارے خرید کرنے سے روک دیا ہے۔