.
افغانستان وطالبان

ملّاعمرکے بیٹےیعقوب طالبان کاعوامی تشخص بہتربنانے کے لیے پہلی مرتبہ ٹی وی پرنمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان تحریک کے بانی ملّامحمدعمر مرحوم کے صاحب زادے ملّایعقوب پہلی مرتبہ بدھ کو ایک ٹی وی پر نمودار ہوئے ہیں۔ٹی وی سکرین پران کی چہرہ نمائی کا مقصد افغانستان کے نئے حکمران طالبان کےعوامی تشخص کوبہتربنایا ہے۔

طالبان حکومت میں افغانستان کے نئے وزیردفاع ملّامحمد یعقوب دارالحکومت کابل میں ایک تقریب میں شریک تھے۔انھوں نے ٹیلی ویژن سے نشرہونے والی اس تقریب میں مقامی تاجروں اور کاروباری شخصیات سے اسپتالوں اورکلینکوں میں سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ طالبان اب سایوں سے باہرنکل رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 1990ء کے عشرے میں طالبان کے پہلے دورِحکومت میں تحریک کے سپریم لیڈرکی حیثیت سے ملّاعمرشاذونادر ہی عوامی سطح پرنظرآئے تھے اوران کی تصاویر کی تشہیرپرپابندی عایدتھی۔یہاں تک کہ جب 2013 میں ان کا انتقال ہوا تودوسال سے زیادہ عرصے تک یہ خبرعام نہیں کی گئی تھی۔

لیکن جب سے طالبان امریکا کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف 20 سالہ جنگ کے بعد اگست کے وسط میں دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، تواس کے وزراء زیادہ کھلےعام سیاسی کردار ادا کررہےہیں۔وہ براہ راست نشر کی جانے والی نیوزکانفرنسیں کررہے ہیں اور اپنے مقاصد ،کارناموں اور حکومت کے اقدامات کی تشہیرکے لیے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لے رہے ہیں۔

ملّا یعقوب نے کابل میں واقع سردارمحمد داؤد خان فوجی اسپتال میں تاجروں سے کہا کہ’’آئیں، یہاں کچھ رقم خرچ کرتے ہیں، تاجربھائیوں کو اسپتال، کلینک بنانے کے لیے آگے آنا چاہیے،ڈاکٹروں کو بھی اس مقصد کے لیے آگے بڑھناچاہیے۔‘‘

افغانستان میں صحت کا شعبہ طویل جنگ کی وجہ سے زبوں حالی کا شکارہے اور بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں رہنے والے طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان کی معیشت جامد ہے۔

اس صوت حال میں ہزاروں افغان علاج کے لیے بیرون ملک جاناچاہتے ہیں جس سے ملک کی بین الاقوامی سرحدوں پرافراتفری میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ کثیرتعداد میں لوگ طالبان کی حکومت سے بھی راہ فراراختیار کررہے ہیں۔

ملّایعقوب طالبان کے برسراقتدار آنےسے قبل اس تحریک کے طاقتور فوجی کمیشن کے سربراہ تھے اور والد کی وجہ سے انھیں نمایاں قدرومنزلت حاصل ہے لیکن نئی حکومت میں سب سے اعلیٰ عہدوں پرملّا عمرکے قریبی ساتھیوں کو فائز کیا گیا ہے۔ان میں وزیراعظم محمد حسن اخوند اور ان کے نائب عبدالغنی برادربھی شامل ہیں۔