.
افغانستان وطالبان

پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، بات چیت کا محور افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وزیر خاجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز اپنے ایرانی ہم منصب امیر حسین عبداللہیان سے ملاقات کی۔ شاہ دمحمود افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں تہران میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان تحریک اس اجلاس میں شریک نہیں ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ کی اس ملاقات میں بات چیت کے اہم موضوعات میں افغانستان شامل تھا۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستانی وزیر خارجہ نے منگل کی دوپہر اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان اور ایران کے افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی کی اہمیت کے حوالے سے ایک جیستے مواقف ہیں ... تہران میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کا دوسرا اجلاس ہو رہا ہے۔ جو چیز برف کو پگھلائے گی وہ یہ کہ روسی وزیر خارجہ بھی انٹرنیٹ کے ذریعے اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اس لیے کہ افغانستان میں سلامتی و استحکام کی مضبوطی کے سیاق میں روس کے بھی علاقائی مفاد ہیں"۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ "ہم نے افغانستان میں تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے اہم بات چیت کی ہے۔ ہم افغانستان کی صورت حال کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں"۔

عبداللہیان نے مزید کہا کہ "ہم سجھتے ہیں کہ افغانستان میں تمام نسلی گروپوں پر مشتمل ایک جامع حکومت ک تشکیل ،،، ہمارے سامنے اہم ترین سیاسی حل ہے۔ ہم افغانستان میں تمام فریقوں سے رابطے میں ہیں۔ اس کا مقصد افغانستان کو موجودہ صورت حال سے باہر لانا ہے"۔

یاد رہے کہ اسلام آباد اور تہران کے طالبان تحریک کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ طالبان تحریک کے ترجمان نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ طالبان بدھ کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ ترجمان نے عدم شرکت کی وجہ نہیں بتائی۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ طالبان کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ ایجنسی نے دعوت نہ دیے جانے کی وجہ بیان نہیں کی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق اجلاس میں ایران، چین، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

افغانستان کے چھ پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس 8 ستمبر کو پاکستان کی صدارت میں ہوا تھا۔