.

’العلاء لمحات‘: آیندہ رنگا رنگ میلہ 21 دسمبرکوشروع ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے العلاء کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او)عمروالمدنی نے بتایا ہے کہ ’’العلاء میں21 دسمبرکوموسم سرما کا تیسرا میلہ شروع ہوگا اوراس میں چارتیوہارشامل ہوں گے۔

انھوں نے الریاض میں پانچویں سالانہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس (فیوچرانویسٹمنٹ انیشی ایٹو،ایف آئی آئی) میں اس میلے کی تفصیل کا علان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’21 دسمبر کو ہم اپنے تیسرے موسمی میلے کا آغازکریں گے اور’العلاء لمحات‘کے بینرتلے ہم چارمنفرد تیوہارمنعقد کریں گے: وہ معروف تنتورا، العلاء آرٹس، العلاء آسمان اورالعلاء تندرستی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس وقت مہمان نوازی کے بہت سے منصوبے تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ان میں ’برگد کا درخت‘ اور’مسکن‘ بھی شامل ہے جہاں العلاء کےارد گردکے ماحول اور ثقافت کے احترام کے ملحوظ رکھا گیا ہے۔‘‘

تنتورا فیسٹیول موسم سرما کا ایک سالانہ ثقافتی میلہ ہے۔یہ پہلی باردسمبر2018ء میں العلاء میں منعقد کیا گیا تھا۔اس میلے میں محافل موسیقی، پکوان کے تجربات اور بہت سی سرگرمیاں اور تقریبات شامل ہوتی ہیں۔

المدنی نے کہا:’’ہم نے اپنے صارف سیاحوں کے اہداف کی احتیاط سے نشان دہی کی اور صرف ایک سال میں عالمی سطح پراپنی آگہی میں 15 فی صد اضافہ کیا ہے۔اس کے پیش نظر 70 لاکھ ممکنہ مسافرالعلاء کی میلہ تقریبات میں شرکت کے لیے آسکتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’شوق کوعملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نےعالمی سطح پرقریباً 13ہزار ٹریول ایجنٹوں کو تربیت دی ہے۔اس نیٹ ورک سے دنیا بھر کے مسافروں کوالعلاء تک بے مثال رسائی میں آسانی ہوگی۔‘‘

العلاء سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع ہے۔یونیسکو نے اس کو سعودی عرب کا پہلا عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔عمروالمدنی اس کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال سے انسان العلاء کے نخلستان سے گزررہا ہے تاکہ وہ میل جول کرسکے، تجارت اور جدت طرازی کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی علاقے کے ابتدائی باشندوں نے چٹانوں میں وسیع ڈھانچے تراش کراس کے منظرنامے کو تشکیل دیا تھا،پانی کے انتظام کے لیے آبی ذخائربنائے تھے۔وہ ماحول اورثقافتی منظرنامے کے امتزاج میں رہتے تھے۔یہ ایک ایسی جگہ جہاں ایک پھلتے پھولتے ماحول نے ایک متحرک معیشت کو آسان بنایا اور بین الاقوامی تبادلے کوآسان کردیاتھا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ تمام خصوصیات ہیں جن کے لیے ہم آج دنیا بھرمیں کوشاں ہیں۔اس طرح کے توازن کے لیے ایک احساس درکار ہے اور یہ ضروری نہیں کہ معیشت کو ماحولیات سے متصادم ہونا پڑے۔