.

ورلڈ بینک، آئی ایم ایف افغان معیشت کی مدد کریں: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ورلڈ بینک اورانٹرنیشنل مانیٹری فنڈ [آئی ایم ایف] پر زور دیا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے ایک بار پھر سے امدادی پروگرام شروع کئے جائیں۔

افغانستان میں ماہ اگست کے دوران طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان مرکزی بینک کے بیرون ملک اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد اور عالمی مالیاتی اداروں نے اپنے فنڈز تک رسائی روک دی تھی۔

افغان معیشت کی کمزور حالت کے سبب بینکوں میں پیسے ختم ہورہے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو آیا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز آئی ایم ایف کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی معیشت رواں سال کے دوران 30 فی صد تک سکڑ جائے گی جس کے نتیجے میں مہاجرین کا ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نےافغان ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ویڈیو لنک سےبات کرتے ہوئے کہا کہ "افغانستان کو تمام شعبوں میں بحالی کی ضرورت ہے اور ترقیاتی کاموں کو اولین ترجیح رکھنا چاہئیے ہے۔"

وانگ یی نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے ایک بار پھر سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان پر عائد پابندیاں اٹھائیں اور عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں افغانستان کو مزید ویکسینز اور طبی سامان فراہم کریں۔

اس موقع پر چین نے افغانستان میں انسانی بحران کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 30 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔

چین اس سے قبل بھی بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کر چکا ہے کہ طالبان کو تنہا کرنے کی بجائے ان سے مذاکرات کئے جائیں۔

وزیرخارجہ وانگ کے مطابق "میرے خیال میں طالبان مذاکرات اور تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں اور وہ اس بات پر سنجیدگی سے قائم ہیں۔"