.

بیت المقدس : اسلامی قبرستان کو "توراتی پارک" میں تبدیل کرنے کا اسرائیلی منصوبہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کی جانب سے الیوسفیہ قبرستان کو "توراتی پارک" میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔ مقامی فلسطینی رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حکام شہر کو مکمل یہودی صورت دینے کے لیے قبروں میں مُردوں کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چُوک رہے ہیں۔

اسرائیل مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کے متوازی اور باب الاسباط کے نزدیک واقع مذکورہ قبرستان کی اراضی پر پارکوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔

الیوسفیہ قبرستان سیکڑوں برس پرانا ہے۔ صلاح الدین ایوبی (یوسف بن ایوب بن شادی) کے نام سے موسوم یہ قبرستان بیت المقدس میں مسلمانوں کے چار قبرستانوں میں سے ایک ہے۔

الیوسفیہ قبرستان بھر جانے پر فلسطینیوں نے 1967ء میں اسرائیلی قبضے سے پہلے سے ہی اپنے مردوں کو قبرستان سے متصل اراضی میں دفن کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس اراضی (متصل قبرستان) کو "صرح الشهداء" کا نام دیا گیا کیوں کہ یہاں اردن اور عراق کے متعدد فوجیوں کی میتیں دفن ہیں جو 1967ء کی جنگ میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ "صرح الشہداء" قبرستان کو الیوسفیہ قبرستان کی توسیع تسلیم نہیں کرتی ہے۔

فلسطینیوں نے الیوسفیہ قبرستان کو پارک میں تبدیل کرنے کا کام رکوانے کے لیے اسرائیلی عدالتوں سے رجوع کیا تاہم اسرائیلی بلدیہ کے بلڈوزر صرح الشہداء قبرستان کو ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل صرح الشہداء کو لوہے کی رکاوٹوں کے ذریعے الیوسفیہ قبرستان سے علاحدہ کر دیا گیا تھا۔

چند روز قبل بیت المقدس میں اسرائیل کی مرکزی عدالت نے قبرستان میں دوبارہ سے کام شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس پر بیت المقدس میں قبرستانوں کی کمیٹی کے وکیل مہند جبارہ نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔