.

جوہری مذاکرات سے قبل امریکا کی ایرانی ڈرون پروگرام پر پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعے کے روز امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ڈرون پروگرام پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے تہران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اس پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے روابط کی وجہ سے 4 افراد اور دو اداروں پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے لبنانی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور ایتھوپیا کو ڈرون فراہم کیے جو کہ امریکی افواج اور خطے میں بین الاقوامی بحری ٹریفک پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

اثاثے منجمد

ان پابندیوں میں ایرانی ڈرون پروگرام کے نگران سعید آغاز جانی بھی شامل ہیں۔ آغاز جانی پہلے ہی امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ تازہ پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اور سینیر اہلکار عبداللہ محرابی شامل ہیں۔

امریکا میں ان کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں اور انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔

امریکا نے دو کمپنیوں کیمیا پارٹ سیوا اور اوجی پرفاز مدھو ناور پر پابندیاں عاید کی ہیں۔