.

سوڈان:سکیورٹی فورسزکی فوجی بغاوت مخالف مظاہرین پرفائرنگ؛دوافرادہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز حالیہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں دو افراد کو گولی مارکر ہلاک کردیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے یہ فائرنگ مغربی ممالک کی جانب سے سوڈان کے نئے فوجی حکمرانوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پرامن احتجاج کی اجازت دینے کی بار باراپیلوں کے باوجود کی ہے۔

دارالحکومت خرطوم اور دوسرے شہروں میں ہزاروں سوڈانیوں نے بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔جمہوریت کے حامی گروپوں نے معزول عبوری حکومت کی بحالی اور زیرحراست سینیر سیاسی شخصیات کی رہائی کے لیے ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کی اپیل کی تھی۔

امریکا اور اقوام متحدہ نے سوڈان کے فوجی حکمران جنرل عبدالفتاح برہان کو خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہرین کے ساتھ فوج کے سلوک کوآزمائش کے طور پر دیکھتے ہیں اوران سے ضبط وتحمل کے مظاہرے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

فوج کی حالیہ حکومت مخالف بغاوت کے باوجود جنرل عبدالفتاح البرہان نے دعویٰ کیا ہے کہ انتقال جمہوریت کے لیے کوششیں جاری رہیں گی اور وہ جلد ہی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک نئی حکومت تشکیل دیں گے اورعبداللہ حمدوک کی جگہ ایک نیا وزیراعظم نامزدکریں گے۔

جبکہ سوڈان میں جمہوریت نوازتحریک اس خدشے کا اظہار کررہی ہے کہ فوج اپنی گرفت کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور وہ ایسے سیاستدانوں کو حکومت میں شامل کرے گی جن پر وہ قابو پا سکتی ہے۔

ہفتے کی سہ پہر خرطوم اور اس کے جڑواں شہراُم درمان میں لوگوں کی بڑی تعداد نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔وہ جنرل عبدالفتاح البرہان سے اقتدار چھوڑنے اور’’انقلاب، انقلاب‘‘ کے نعرہ بلند کررہے تھے۔کچھ لوگوں نے بینرزاٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’’اب لوٹنا ناممکن ہے۔‘‘

سوڈان کے پیشہ وروں کی تنظیم (پروفیشنلز ایسوسی ایشن) اور مزاحمتی کمیٹیوں نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی۔یادرہے کہ ان دونوں گروپوں نے سابق مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کے خلاف 2019ء کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اس کے نتیجے میں عمرالبشیر کو فوج نے معزول کردیا تھا۔

اب ان کا مطالبہ ہے کہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں حکمران فوجی کونسل کو ختم کیا جائے اور حکومت شہریوں کے حوالے کی جائے۔وہ نیم فوجی گروپوں کو ختم کرنے اور فوج، انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی تشکیل نوکے بھی خواہاں ہیں۔وہ عمرالبشیر کے وفادار فوجی اور سرکاری افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایک پیشہ ور یونین سوڈان ڈاکٹرزکمیٹی نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے اُم درمان میں دوافراد کو گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ان میں سے ایک کے سر میں گولی لگی اور دوسرے کے پیٹ میں گولی تھی۔سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن میں شامل اس کمیٹی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسزنے اُم درمان اور دارالحکومت کے دیگر مقامات پر مظاہرین کے خلاف براہ راست گولہ بارود استعمال کیا جس کے نتیجے میں بہت سے مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

پروفیشنلز ایسوسی ایشن کے ترجمان محمد یوسف المصطفیٰ نے بتایا کہ دوسری جگہوں پر سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پراس وقت اشک آورگیس پھینکی جب وہ خرطوم پہنچنے کے لیے دریائے نیل پرواقع مانشیا پل عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

مظاہرے شروع ہونے سے قبل سیکورٹی فورسز نے خرطوم اورجڑواں شہرام درمان کو ملانے والی بڑی سڑکیں اور پل بند کر دیے تھے۔فوجی جنتا نے 2019میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں ایک بڑے دھرنے کے کیمپ کی جگہ مرکزِشہر اور فوج کے صدردفاترکے باہرسیکورٹی سخت کردی تھی اور وہاں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔

واضح رہے کہ سوڈان میں گذشتہ سوموار کوفوجی بغاوت کے بعد سے سڑکوں پر روزانہ احتجاج ہورہا ہے۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی اور کارکنوں کے مطابق آج مہلک فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد11ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کم سے کم 170افراد زخمی ہوئے ہیں۔فوجیوں نے بغاوت مخالف مظاہرین پربراہ راست گولہ بارود چلایا ہے، ربرکی گولیاں فائرکی ہیں اوراشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔اس کے علاوہ مظاہرین کو لاٹھیوں اور کوڑوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔