.

یواے ای نے لبنان سے سفیرکوواپس بلالیا، شہریوں کوبیروت نہ جانے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے لبنان میں متعیّن اپنے سفیرکو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اوراپنے شہریوں کو اس ننھے عرب ملک کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یواے ای نےلبنان کے وزیراطلاعات جارج قرداحی کے حالیہ بیانات کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لبنان کے سفر پر بھی پابندی عاید کر رہا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے وام کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یواے ای نے سعودی عرب کے بارے میں لبنان کے بعض حکام کے ناقابل قبول نقطہ نظرکی روشنی میں اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اور اس نے اپنے شہریوں کو جمہوریہ لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب نے بھی بیروت میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے،الریاض میں متعیّن لبنانی سفیر کوملک چھوڑنے کا حکم دیا ہےاور لبنانی درآمدات پر پابندی عاید کردی۔اس سفارتی بحران کے باوجود لبنانی صدرمشیل عون نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں۔

صدرعون نے وزارتی کرائسیس مینجمنٹ گروپ کی بات چیت کے بعدایک ٹویٹ میں بیان جاری کیا ہے،اس اجلاس میں سفارتی بحران کوختم کرنے پر غورکیا گیا ہے۔یہ سفارتی بحران لبنانی وزیراطلاعات کی یمن میں عرب اتحاد کی فوجی مداخلت پر تنقید سے پیدا ہوا ہے۔

جارج قرداحی نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجواپنا دفاع کررہے ہیں۔انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی جنگ کو’’بے سود‘‘قراردیا تھا۔لبنانی حکومت سے وزیراطلاعات کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔