.

امریکی صدربائیڈن کی دفاع اورانسانی حقوق پر کشیدگی کے تناظرمیں ترک ہم منصب سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدرجو بائیڈن نے اتوار کے روز ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے اور ان سے ترکی کے روس سے خریدکردہ ایس-400 میزائل دفاعی نظام رکھنے پرامریکی تحفظات کا اظہارکیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے نیٹواتحادی کی حیثیت سے ترکی کی اہمیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس کے روس سے ایس-400 میزائل نظام خرید کرنے پر تشویش لاحق ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ترکی کی ایف 16 لڑاکا جیٹ کے حصول کے لیے درخواست کے حوالے سے ایک عمل سے گزرنا ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہ نماؤں نے شام میں سیاسی عمل، ضرورت مند افغانوں کو انسانی امداد مہیا کرنے، لیبیا میں انتخابات، مشرقی بحیرہ روم کی صورت حال اورجنوبی قفقازمیں سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بائیڈن نے ترکی کے ساتھ تعمیری تعلقات برقراررکھنے، دوطرفہ تعاون کے شعبوں کو وسعت دینے اورمؤثرطریقے سے اختلافات کونمٹانے کی ضرورت پرزوردیا۔دونوں ممالک کے درمیان دفاع اورانسانی حقوق کے معاملات سمیت بعض امورپر کشیدگی پائی جاتی ہے اورامریکا ترکی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتا رہتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے ہفتے کے روزکہا تھا کہ بائیڈن اپنے ترک ہم منصب کوخبردار کریں گے کہ کسی بھی قسم کے’’پیشگی‘‘ اقدام سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

صدرایردوآن نے ترکی میں جیل میں قید مخیّرشخصیت عثمان کاوالا کی رہائی کے مطالبے پرانقرہ میں متعیّن امریکی سفیرسمیت دس مغربی ممالک کے ایلچیوں کوبے دخل کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد ترکی اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بعد میں صدرایردوآن نے ان مغربی سفیروں کو ملک سے نکالنے کی دھمکی واپس لے لی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے ترکی میں مضبوط جمہوری اداروں، انسانی حقوق کے احترام اورامن و خوشحالی کے لیے قانون کی حکمرانی کی اہمیت پر بھی زوردیا ہے۔

جب صدر بائیڈن سے صدرایردوآن کے ساتھ تصویرکشی کے وقت یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ترکی کو ایف 16 لڑاکا طیارے دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’’وہ اچھی بات چیت کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘انھوں نے وضاحت کی امریکا میں اس ضمن میں ایک طے شدہ طریق کار اورعمل کی پاسداری کی جائے گی۔